تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 468 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 468

خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1986ء :۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم ابھی پیچھے ہے۔اور خطرہ یہ ہے کہ ان کا اخلاص اور ان کا تعلق ضائع نہ ہو جائے یا نقصان کا موجب نہ بن جائے۔ضائع تو ان معنوں میں ہو سکتا ہے کہ یہ اب اپنے آپ کو پیش کر رہے تعلق بڑھا رہے ہیں اور ان کو ہوسکتا کہ سلجھانے کے لئے ، ان کے اخلاق درست کرنے کے لئے ، ان کی اعلیٰ تربیت کے لئے کوئی کارروائی نہ کی جائے۔اتنا اچھا موقع اللہ تعالیٰ مہیا کرے اور جماعت اس موقع سے استفادہ کرنے سے غافل رہ جائے ، یہ بہت ہی بڑا نقصان ہے۔دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ ان نوجوانوں نے جو تعلق قائم کیا ہے، اگر ان کے اخلاق وہی رہے، اگر ان کا علمی معیار اور تربیتی معیار وہی رہا تو مقامی دوست خصوصیت کے ساتھ ان کو اسلام کا ایمبیسڈر، اسلام کا سفیر سمجھتے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے۔اور پاکستانی احمدیوں کے معیار کو اس طرح جانچ رہے ہوں گے۔اور واقعہ یہی ہوا بھی۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، دو جرمن دوستوں نے بڑی تفصیل سے کھل کر مجھ سے گفتگو کی۔اس دن بڑا اچھا موقع تھا۔ان میں سے ایک دوست ہمارے ساتھ سیر پر جاتے رہے۔سیر کے دوران ان سے بات کرنے کا، ان سے بڑی لمبی گفتگو ہوئی۔تو انہوں نے جو باتیں بتا ئیں ، ان سے معلوم ہوا کہ یہ ایک بہت ہی بڑا اور حقیقی خطرہ ہے۔ان کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کون لوگ ہیں، جو وہاں سے آئے ہیں؟ اور کس کس قسم کے لوگ ہیں؟ جو بھی آنے والا تھا، وہ سمجھتے تھے کہ خدا کے گھر سے آرہا ہے۔وہاں سے آرہا ہے، جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیدا ہوئے ، جہاں صحابہ نے نئی نسلوں کی تربیت کی۔وہ احمدیت کے نمائندہ کے طور پر ہر شکل کو دیکھتے تھے۔بعض دفعہ شکل وصورت ، طرز رہنے سہنے کی ، اوڑھنے بچھونے کی لباس کی ، باتوں کی ایسی طرز ہوتی ہے، جو بتا دیتی ہے کہ اس میں دین نہیں ہے۔اور جب آپ ایسے لوگوں کو اسلام کے نمائندہ کے طور پر دیکھیں، آپ کو پتہ نہ ہو کہ وہاں بھی یہ نمائندہ نہیں تھے ، وہاں بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے تھے، بھاگنے والوں میں سے تھے تو آپ یہی اثر لیں گے کہ ہمیں تو کچھ اور باتیں بتائی جاتی تھیں، ہم سے تو کچھ اور توقعات رکھی جاتی ہیں اور وہاں کچھ اور باتیں ہو رہی ہیں۔بہر حال بڑی تفصیل سے ان کو رفتہ رفتہ سمجھانے کی کوشش کی اور پھر وہ سمجھ گئے۔بڑے ذہین آدمی تھے، انہوں نے ان فرقوں کو دیکھا اور سمجھا۔ان کو میں نے آخر پر یہ بتایا کہ ان کی غلطی کردار کی لیکن آپ کی غلطی اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔آپ نے خدا کو پاکستان کا خدا سمجھ لیا ہے اور جرمنی کا خدا انہیں سمجھا۔اور اسلام کو پاکستان کا اسلام سمجھ لیا ہے اور جرمنی کا اسلام نہیں سمجھا۔آپ کو تو ہم نے خدا سے روشناس کرایا ہے، جو کل عالم اور کل کائنات کا خدا 468