تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 467
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1986ء جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ایسے گروہ ، ایسے چیدہ چیدہ صائب الرائے لوگوں کو اکٹھا کر کے ان کی مجالس قائم کرنی چاہئیں، خواہ وہ مجلس عاملہ میں سے چنے جائیں، خواہ باہر سے اختیار کئے جائیں۔جن کے سپرد یہ کام ہو اور ان کی رپورٹیں اگر وہ باہر سے ہیں، مجلس عاملہ میں پیش ہوں۔اگر وہ لوگ مجلس عاملہ کے ممبر ہیں، تب بھی مجلس عاملہ میں پیش ہوا کریں۔اور جو کچھ بھی لائحہ عمل تجویز ہو، وہ ملکی طور پر مجھے بھجوا دیا جایا کرے تا کہ میں ایک نظر ڈال لوں۔ایک تو اس کے نتیجہ میں مجھے علم ہوتا رہے گا کہ کون سا ملک بیدار مغزی سے یہ کام کر رہا ہے اور توجہ سے یہ کام کر رہا ہے۔اور جو ملک غافل ہیں، ان کو متوجہ کر سکوں گا۔دوسرے ان حقائق کی روشنی میں، جو انہوں نے جمع کئے ہوں گے، میں ان کے لئے مزید راہنمائی کا موجب بن سکوں گا۔اس لئے وہ ساری جماعتیں ، جوان مسائل پر غور کریں اور وہ اپنی رپورٹیں مجھے بھجوائی شروع کریں اور انشاء اللہ تعالی اس کے نتیجہ میں ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ رپورٹیں چونکہ ساری دنیا سے آرہی ہوں گی، اس لئے جو اسلامی تمدن، جو توحید قرآن اور حدیث کی روشنی میں، میں قائم کرنا چاہتا ہوں، وہ ساری دنیا کی رپورٹیں یکجائی طور پر نظر میں آنے کے نتیجہ میں زیادہ آسانی سے کر سکوں گا، زیادہ اس بات کا اہل ہوں گا۔دوسرا پہلو ہے پاکستانی احمدیوں کی تربیت کرنا۔جو باہر گئے ہوئے ہیں اور ان کو استعمال کرنا ابتدائی تعلیم کے لئے۔یہ بہت ہی اہم کام ہے، جو خاص طور پر جرمنی میں سامنے آیا۔جب میں ملاقاتیں کرتارہا ہوں یا گفت و شنید کرتارہا ہوں تو صرف حال احوال پوچھنا تو مقصد نہیں تھا کہ انہوں نے میرا حال پوچھ لیا اور میں نے ان کا حال پوچھ لیا۔ان کے تمدنی حالات پوچھتا رہا ہوں ، مسائل پوچھتا رہا ہوں اور پوچھتارہاہوں، دینی حالت کے متعلق تو کچھ شکلیں بتا دیتی تھیں اور کچھ سوالات کے بعد چیزیں سامنے آجاتی تھیں۔ایک چیز ، جو افسوسناک سامنے آئی ، وہ یہ تھی کہ نو جوانوں میں جہاں اخلاص کا معیار بلند ہے، وہاں علم کا معیار بہت کم ہے۔بعض صورتوں میں تو بعض احمدی نوجوانوں کو نماز کا ترجمہ نہیں آتا تھا، وہ گھر سے سیکھ کر ہی نہیں چلے۔بہت سے ایسے احمدی نوجوان بھی دیکھے، جو وہاں نظر بھی کبھی نہیں آتے تھے۔اور یہاں آنے کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ جماعت کے ساتھ منسلک ہو گئے اور انہوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے کہ اب جو چاہو، ہم سے کرو اور جس طرح چاہوں، ہمیں اچھا بنا دو۔پہلے وہ اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے تھے اور جو لوگ ان کے پاس جاتے تھے، وہ ان سے دور بھاگتے تھے۔ایسا عصر خاص طور پر جو وہاں بھی جماعت کی نظر سے الگ رہا اور جماعتی تربیت کے ہاتھ سے پیچھے بتارہا ہے، وہ یہاں آکر بھی جماعت سے متعلق تو ہو گیا لیکن علمی لحاظ سے اور تربیتی لحاظ سے اسی طرح سے اسی طرح 467