تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 466 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 466

خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم نام پر پیدا ہوگا ، اس میں ایک تو امتزاج پایا جائے گا۔دوسرے اسلامی تمدن کے پہلو کے لحاظ سے ایک عالمی قدر مشترک پائی جائے گی۔اور وہی ملت واحدہ بنانے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ایک بھاری حصہ تمدن کا ایسا ہے، جو مذہب سے اثر انداز ہوا ہوتا ہے۔اور اس حصہ کی حفاظت کرنا اور اسے نکھار کر دنیا کے سامنے پیش کرنا، یہ نہایت ہی اہم ضرورت ہے وقت کی ، جس کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔ورنہ جیسا کہ یہاں گزشتہ تجربہ نے بتایا کہ محض اس توجہ کے فقدان کے نتیجہ میں بہت سے خاندان ایک رستہ سے آئے اور دوسرے رستہ سے چلے گئے۔محض اس توجہ کے فقدان کے نتیجہ میں جومخلص تھے ، ان کے ایمان داغدار ہونے لگے، ان کے دل افسردہ ہونے لگے، وہ مایوس ہونے شروع ہوئے کہ ہم کس ویرانہ میں چلے آئے ہیں۔جن لوگوں نے ہمیں خدا کی طرف بلایا تھا، وہ خدا کا نمائندہ بن کر ہمیں چھاتی سے لگانے والے ثابت نہیں ہوئے بلکہ تنہا دنیا میں چھوڑ دیا ہے۔یہ کہہ کر کہ تم اپنے تمدن سے باغی ہو جاؤ اور ہم تمہارے لئے کوئی تمدن پیش نہیں کر سکتے۔تم اپنے تعلقات تو ڑ لو، ہم تمہارے لئے کوئی متبادل تعلقات مہیا نہیں کر سکتے۔تم اردو سیکھو لیکن ہم انگریزی نہیں سیکھیں گے۔ہم جب بات کریں گے، پنجابی یا اردو میں کریں گے، خواہ تم بیٹھے رہو ، تمہاری طرف کوئی متوجہ نہیں ہوں گے۔اور جب بھی ہم آپس میں ملیں گے تم سرکتے سرکتے ایک طرف کو نہ میں لگ جایا کرو گے اور ہم اپنی اجتماعی شکل میں آپس میں خوش گپیوں میں مصروف ہو جایا کریں گے۔اگر یہ پیغام آپ اسی طرح دیتے رہے تو ہر جگہ جتنے سفر آپ طے کریں گے، وہ سارے فاصلے اپنے ہر قدم کے ساتھ منقطع بھی کرتے چلے جائیں گے۔زمینیں سر نہیں ہوں گی بلکہ سر شدہ زمینیں دوسروں کے سپرد کرتے چلے جائیں گے۔ایک ایسا سفر ہے، جس میں آپ کی زمین وہی ہے، جہاں آپ کھڑے ہیں یا جہاں آپ قدم ماررہے ہیں۔گزشتہ زمینیں فتح کر کے حاصل کر کے غیروں کے سپر د کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ تو کوئی ترقی کا طریق نہیں ہے، یہ تو کوئی زندہ رہنے کا فیشن نہیں ہے۔اس لئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہوا:۔"زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں“ ( تذكرة: 426) آپ زندگی کے فیشن سے دور نہ جائیں کبھی۔زندہ رہنے کے اسلوب سمجھیں، سوچیں اور ان کو چمٹ جائیں۔اور عالمی تو حید کو پیدا کرنے کے لئے عالمی تمدن کے امتزاج کا ہونا بڑا ضروری ہے اور اس کی طرف جماعتوں کو خصوصیت کے ساتھ توجہ دینی چاہئے۔466