تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 38
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 مئی 1985ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم عمارت دیکھتے ہی دیکھتے حقیقتا چھوٹی دکھائی دینے لگی۔مگر یہ تو پہلی منزل ہے۔دوسرا قدم پھر یہ ہوگا کہ خدا تعالی اس عمارت کے نتیجہ میں آپ کو جو نئے نئے پھل عطا کرے گا، وہ خود پیج بن جائیں، وہ خود نشو ونما کا ذریعہ بن جائیں۔اگر آپ کی جیبیں چھوٹی ہیں تو وہ وسیع جیبیں لے کر آپ کے پاس آجائیں۔اور پھر آپ اپنے ماحول میں ارد گر دنئی عمارتیں اور نئی نئی زمینیں خریدنا شروع کر دیں۔اور سکاٹ لینڈ کی فتح کے لئے اسے پیج بنا دیں۔اور صرف گلاسگو فتح نہ ہو بلکہ اس عمارت میں سارے سکاٹ لینڈ کی فتح کا بیج بویا جائے۔پس اگر آپ اس بلند ارادے کے ساتھ افتتاح کریں اور خدا پر توکل کریں تو آج آپ کو بظاہر یہ عجیب باتیں دکھائی دے رہی ہوں گی۔آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ بہت بڑی بڑی باتیں ہیں لیکن اس سے زیادہ بڑی بات تو نہیں کہ فاقوں کے ساتھ پتھر توڑے جارہے ہوں اور قیصر و کسری کی خوشخبریاں دی جا رہی ہوں کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے میرے ہاتھ دے دیئے گئے ہیں، ان کے محلات کی چابیاں مجھے پکڑا دی گئی ہیں۔یہ دنیا کا افتتاح نہیں ہے، اس بات کو یاد رکھیں کہ یہ ایک مذہبی افتتاح ہے۔اور مذہبی افتتاح اسی قسم کی باتوں سے کیا جاتا ہے۔اور وہ جو خدا پر توکل رکھتے ہیں، ان کی پچھلی باتیں بھی خدا نیچی کر کے دکھا دیتا ہے۔ان کی دگی باتیں بھی دنیا کے سیانوں کی باتوں سے اپنی عقل، اپنی حکمت اور اپنی معرفت میں آگے بڑھ جاتی ہیں۔چونکہ یہ ایک مذہبی عمارت ہے، اس لئے اس کا افتتاح بھی مذہبی اسلوب پر ہونا چاہئے۔بلند ارادوں کے ساتھ وو افتتاح کریں۔اور پھر ان ارادوں کو جلد از جلد عمل کے سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔بہر حال جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ سورۂ جمعہ کے ساتھ تو جماعت احمدیہ کا بہت گہرا تعلق ہے۔اتنا گہرا تعلق ہے کہ کسی اور سورۃ سے جماعت احمدیہ کا براہ راست اتنا گہرا تعلق نہیں ہے۔کیونکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کا ذکر ہے، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ پوری ہوئی۔وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کا ذکر ہے۔ان آخرین کا، جو صحابہ سے نہیں ملے تھے لیکن ایک دن انہوں نے مل جانا تھا۔اس مضمون کا ذکر ہے، جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں بیان فرماتے ہیں:۔صحابه ما جب مجھ کو پایا ( در ثمین صفحه 56) اس مصرعہ کی بنیاد بھی اسی سورہ جمعہ پر ہے۔چنانچہ جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ سورہ جمعہ تو جماعت احمدیہ کے ساتھ بہت گہرا تعلق رکھتی ہے۔نہ صرف ایک عام تعلق بلکہ کئی رنگ میں تعلق رکھتے ہیں۔38