تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 459 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 459

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 اکتوبر 1986ء ہے۔ادا ہو ہی نہیں سکتا۔چار سال کے اندر دس گنا رفتار کے ساتھ بیرون پاکستان جماعتوں نے مالی قربانی کا مظاہرہ کیا ہے۔اور یہ مالی قربانی کل مالی قربانی کا ایک عشر عشیر بھی نہیں ہے۔تحریک جدید کا جو چندہ ایک کروڑ روپے کا ہے، اس سے کئی گنا زیادہ بیرون پاکستان جماعتیں دوسرے چندوں میں آگے بڑھ چکی ہیں۔اور اپنے لازمی چندوں میں بھی اور چندہ عام میں بھی، وصیت کے چندوں میں بھی اور جو بھی تحریک کی جاتی ہیں، اس میں خدا کے فضل سے اس طرح حیرت انگیز طور پر جماعت اپنا سب کچھ پیش کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہے کہ وہ لوگ، جو نہیں دے سکتے ، ان کے دردناک خطوط ملتے ہیں، بے حد تڑپتے ہیں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ صرف روپے کا سوال نہیں ہے، اخلاص کا معیار اتنا بڑھ گیا ہے، جماعت کے ساتھ محبت اور عشق کا معیار اتنا بڑھ گیا ہے کہ جو دے سکتے ہیں، وہ تو اپنے دل ٹھنڈے کر لیتے ہیں، جو نہیں دے سکتے ، وہ تڑپتے ہیں اور بے قرار ہوتے ہیں، کاش ہمیں بھی توفیق ملے۔اور مسلسل ملاقاتوں کے دوران بھی اور خطوط کے ذریعے بھی بعض لوگ اس درد کا اظہار کرتے ہیں۔اور خطوں سے بھی ان کی سچائی ظاہر ہو جاتی ہے، ملاقاتوں کے وقت تو چہرے بتا دیتے ہیں کہ کس حد تک ان کو بے قراری ہے کہ ہماری یہی خواہش ہے۔ہماری یہی تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دے اور ہم خدا کی خاطر قربان کریں۔وقف کے لئے جماعت احمدیہ میں اب دوبارہ پھر غیر معمولی توجہ پیدا ہوگئی ہے۔نہ صرف یہ کہ وقف کی جو دوسری عام صورت ہے، یعنی اپنے وقت کو جماعت کے لئے زیادہ پیش کرنا۔اس میں غیر معمولی اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔طوعی کارکنان بڑے زور کے ساتھ ، بڑے جذبے کے ساتھ آگے آرہے ہیں۔ہر قسم کے وقف کا جب بھی ان سے مطالبہ کیا جاتا ہے، وہ خوشی سے پیش کرتے ہیں۔لیکن اس کے علاوہ مستقل وقف زندگی کی خواہش بھی دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے۔اور اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو بچے نئے پیدا ہوتے ہیں، بعض دفعہ مائیں اور بعض دفعہ باپ بڑی محبت اور شوق سے یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ منت مانی ہوئی تھی کہ بچہ ہو گا تو ہم پیش کر دیں گے۔ایک ماں نے اس دفعہ جرمنی میں ایک چھوٹی بچی دکھائی کہ میں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ بیٹا ہو یا بیٹی ، میں نے جماعت کو دینا ہے۔تو یہ بیٹی آپ کی ہے۔اور اس قدر خوشی ہوتی ہے، ان کے چہروں پر اس بات سے اور اتنا خدا کا شکر ان کی آنکھوں سے، ان کے چہروں کے آثار سے برستا ہے کہ صاف پتہ چلتا ہے کہ جماعت احمدیہ ہی آج وہ جماعت ہے، جو قرآن کریم کی اس آیت کی مصداق ہے:۔اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ 459