تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 439 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 439

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ہی خلاصہ خطاب فرمودہ 24اکتوبر 1986ء قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ امن ہے اور حصول امن کا آسان ذریعہ ذکر الہی ہے خطاب فرمودہ 24 اکتوبر 1986ء بر موقع سالانہ اجتماع مجالس خدام الاحمدیہ یورپ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور رحمہ اللہ نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ خدام الاحمدیہ مغربی جرمنی کو یوروپین اجتماع منعقد کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔جب بھی جرمنی آنے کا موقع ملا ہے، پہلے سے ہر دفعہ حاضری میں اضافہ دیکھا۔یہ کبھی نہیں دیکھا کہ حاضری میں کمی ہوئی ہو۔فرمایا کہ "برکتوں کے ساتھ ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں“۔حضور نے فرمایا:۔و قرآن کریم کا خلاصہ امن ہے اور جب تک یہ انسان کی ذات سے شروع نہ ہو، بیرونی دنیا میں اس کے قیام کا دعویٰ غلط ہے۔انسان کی ذات سے یہ کیسے شروع ہو اور کیسے نصیب ہو؟ اس کا آسان ذریعہ ذکر الہی ہے۔اس میں ہی طمانیت قلب ہے۔ورنہ کئی ظاہری امن ہیں، جن کی کوئی حقیقت نہیں۔دنیا کی لذتوں میں ڈوب کر بھی ایک امن نصیب ہو جاتا ہے، لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں۔طمانیت تو کہتے ہی ہیں کہ جو دل میں گھر کرلے اور مستقل سکینت عطا کر دے اور اس کا ذکر قرآن کریم نے أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ میں فرمایا ہے۔جس کے ساتھ اللہ رہے، اس کا ماحول پر سکون ہو جاتا ہے۔یہ تعلق ایسا ہے کہ جو چھپا نہیں رہ سکتا۔بلکہ ظاہری دنیا کی طرح محبت الہی کا بیچ بھی بڑھ کر انسانی دل کو مرغزار بنا دیتا ہے۔اگر دلوں کو یہ سکون نصیب ہو جائے تو حقیقی امن ہمیں نصیب ہو جائے گا۔خدا کرے ایسا ہی ہو“۔مطبوعہ ہفت روزہ النصر 14 نومبر 1986۔439