تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 31
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اصف اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 اپریل 1985ء نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا۔لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے۔بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نورا تارنے سے۔تب یہ باتیں، جو میں کہتا ہوں ،سمجھ میں آئیں گی۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه 305) پس یہ ہے، جماعت احمدیہ کا عالمی فتح کا پروگرام اور منصوبہ، جسے تم سازش کہہ رہے ہو۔اور یہ پروگرام جماعت احمدیہ نے آج سے نہیں بلکہ تمہارے اپنے قول کے مطابق نوے سال سے زائد عرصہ سے شروع کر رکھا ہے۔ایک ملک میں نہیں ، دنیا کے ہر ملک میں شروع کر رکھا ہے۔اور یہ وہ پروگرام ہے، جس کا بیج قرآن کریم میں بویا گیا۔بلکہ یہ تو وہ پروگرام ہے، جو انسانی پیدائش بلکہ کائنات کے وجود سے پہلے ہی جب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق کا فیصلہ فرمایا گیا، اس وقت یہ پروگرام بھی ساتھ ہی منصہ شہود پر ابھرا۔یہ ممکن ہی نہیں کہ محمد مصطفی کی تخلیق کا سوال پیدا ہو اور کائنات کی فتح کا منصوبہ ساتھ ہی تعمیر نہ کیا جائے۔یہ دو باتیں الگ الگ ہو ہی نہیں سکتیں۔پس قرآن کریم نے جب یہ وعدہ فرمایا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے ( یعنی خدا نے ( اس ) لئے مبعوث فرمایا ہے کہ دنیا کے تمام دینوں پر اس کے دین کو یا اس کو غالب کر دے، تو یہ منصوبہ تو بن چکا ہے۔اور ہم اس منصوبہ کو پورا کرنے میں اپنے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔تمہیں توفیق نہیں مل رہی کہ اس منصوبے کے لئے کوئی کام کرو تمہیں یہ توفیق نصیب نہیں ہورہی کہ اسلام کے غلبہ کے لئے ہماری طرح قربانیاں دو، اپنی جان، مال اور عزتیں پیش کرو، زندگیاں وقف کرو، اسلام اور دیگر مذاہب پر غور و فکر کرتے ہوئے نئے نئے نکات لے کر آؤ ، نئے دلائل پیش کرو، نئے براہین سے دنیا کا مقابلہ کرو اور ان کو فتح کرو۔لیکن تم تو ان باتوں سے عاری ہو۔تمہارے دامن میں تو سوائے گالیوں کے اور کچھ بھی نہیں۔سوائے جبر اور تشدد کی تلوار کے تمہارے پاس ہے کیا ؟ ہم تو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ حالت میں پاتے ہیں۔ہم تو اپنے وجود کو اس نقشہ کے اندر لکھا ہوا پاتے ہیں اور اپنے نقوش اس نقشہ میں مرتسم پاتے ہیں، جو قرآن کریم میں بنایا گیا۔ہم سے زیادہ خوش نصیب اور کون سی قوم ہوسکتی ہے۔اور تم خودان نقوش کو ابھار رہے ہو اور تمام دنیا میں یہ اعلان کر رہے ہو کہ یہ وہ جماعت ہے، جس نے تمام دنیا کی فتح کا منصوبہ بنایا ہے اور وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کے سوا اور کوئی جماعت ہو ہی نہیں سکتی۔ہم تو اس تقسیم پر راضی 31