تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 359
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جون 1986ء کل کے لئے کر آج نہ خست شراب میں یہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں (دیوان غالب ، صفحہ 161) ہم جو حقیقت میں دین کی معرفت کو سمجھنے والے ہیں، ہم کیسے یہ کر سکتے ہیں کہ آنے والے کل کے مخلصین کے حق میں یہ بدظنیاں کریں کہ جب اس زمانہ میں ضرورتیں پیدا ہوں گی تو وہ ان کو پورا نہیں کر سکیں گے؟ ہمارے ٹرسٹ ہی ہیں، جو ان کے کام آئیں گے۔اور گویا خدا تعالیٰ ان ٹرسٹوں کے ذریعہ ان ضرورتوں کو پورا کرے گا۔اور جس طرح جماعت کو خدا تعالیٰ بے ساختہ آج تو فیق عطا فرمارہا ہے، کل کے مخلصین کو یہ توفیق نہیں عطا فرمائے گا ؟ یہ تو بہت بڑی بدظنی ہے اور بہت بڑی محرومی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر ایسے واقعات دوبارہ بڑی سطح پر کہیں پیدا ہوں تو ناممکن ہے کہ جماعت کے دل ٹھنڈے ہو جا ئیں ، اس بناء پر کہ کسی ٹرسٹ کے ذریعہ اللہ کی راہ میں دکھ اٹھانے والوں کی ضرورتیں پوری ہورہی ہیں۔جب تک محبت کے ساتھ قربانی کی روح کے ساتھ خود شامل نہیں ہوں گے، جب تک ان کو یہ توفیق نہ ملے کہ انہوں نے حصہ لیا ہے، اس میں، اس وقت تک ان کے جذبہ ایمان اور جذبہ خلوص کو تسکین مل ہی نہیں سکتی۔تو ٹرسٹ سے دل اتر گیا فوری طور پر اور میں نے وہاں بھی ہدایت کر دی کہ اس ٹرسٹ کا خیال چھوڑ دیں۔جو رقم آتی ہے اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔اور اللہ نے ہی پہلے ضرورتیں پوری کی تھیں، آئندہ بھی کرتا رہے گا۔آئندہ کے مخلصین پر بھی بدظنی نہ کی جائے۔یہ رقم ختم ہوگی تو خدا اور مہیا فرما دے گا۔اس لئے ٹرسٹ کے خیال کو چھوڑ دیں۔اور ان سب باتوں کے باوجود ایک بڑی رقم ان ضرورتوں کو ، جو چند سال تک پیش نظر رکھی تھیں میں نے ، ایک بڑی رقم ان ضرورتوں سے بچ جاتی تھی۔یہ وہ بچی ہوئی رقم تھی، جس کے متعلق خیال تھا کہ اسے کس طرح اس مقصد میں خرچ کیا جائے؟ اور کس طریق پر خرچ کیا جائے کہ سب قربانی کرنے والوں کو کسی نہ کسی رنگ میں جماعت کا یہ محبت بھرا تحفہ پہنچ جائے؟ تو اس وضاحت کے بعد امید ہے کہ اگر کسی کے دل میں کوئی وہم ، کوئی غلط خیال پیدا ہو رہا تھا تو وہ ختم ہو جائے گا ہمیشہ کے لئے“۔(مطبوعہ خطبات طاہر جلد 15 صفحہ 443441) 359