تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 332
خطبہ جمعہ فرمودہ 104 اپریل 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم تو نفسیاتی بہت سے پہلو ایسے ہیں، جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غریب کے تقویٰ کی حفاظت فرما دی ہے۔اور ان امور میں امیر، غریب کے مقابل پر دل کا بہت زیادہ غریب ثابت ہوتا ہے۔تبھی قرآن کریم نے جہاں مالی قربانی کا ذکر فرمایا، وہاں مالی غربت کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ دل کی غربت کا ذکر فرمایا۔فرمایا:۔وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (10: ) وہ لوگ جو دل کے بخل سے بچائے جاتے ہیں اور جو دل کے غریب نہیں ہوتے ، وہی لوگ ہیں، جو اللہ کے نزدیک بہت بڑی فلاح پانے والے ہیں۔پس جہاں تک چندوں کا تعلق ہے ، وہاں فیصلہ کن امر یہ نہیں ہوتا کہ کسی کے پاس ظاہری دولت کتنی ہے۔بلکہ فیصلہ کن امر یہ ہوتا ہے کہ دل کی دولت کسی کے پاس کتنی ہے۔اور اس پہلو سے یہ عجیب بدقسمتی ہے، امراء کے طبقہ کی کہ الا ماشاء اللہ امیر اپنی غیر معمولی توفیق کے باوجود شرح کے مطابق چندہ دینے سے ہچکچاتا ہے۔ایک آدمی، جس کی ایک سو ساٹھ روپے آمد ہے، اس کے لئے کوئی مشکل نہیں کہ وہ دس روپے دے دے۔لیکن جس کی سولہ لاکھ روپے آمد ہو ، وہ ہر سال ایک لاکھ روپیہ دے، اس کو اتنی بڑی رقم نظر آتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ تھوڑا بھی دے دوں تو دس ہزار ہیں ہزار بہت بڑی رقم ہے۔اس لئے وہ تھوڑا دے کر بھی اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میں نے دین کے لئے بڑی قربانی کی ہے۔اس لئے وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے اموال میں کشائش عطا فرمائی ہے، اموال میں وسعت بخشی ہے، ان کو خصوصیت کے ساتھ اپنے تقویٰ کی حفاظت کرنی چاہئے۔ی حض ڈراوا ہے کہ مال کم ہو جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا مال جب خدا کو واپس کیا جاتا ہے تو کم نہیں ہوتا۔خواہ مخواہ دل میں گانٹھیں پڑی ہوتی ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ گانٹھ کھولنے کا جو مزہ ہے، وہ نہ کھولنے والے کے تصور میں بھی نہیں آسکتا۔جب بھی آپ خدا کی خاطر دل کی کوئی گانٹھ کھولتے ہیں، اس وقت آپ کو دراصل وسعت عطا ہوتی ہے، اس وقت آپ کو فراخی ملتی ہے اور وہ فراخی مال کی فراخی کے مقابل پر بہت ہی زیادہ عظیم الشان اور بہت ہی زیادہ سرور بخشنے والی فراخی ہے۔اس لئے ہمارے امراء خصوصیت کے ساتھ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ایک اور ذریعہ سے بھی مجھے پتہ چلتا ہے کہ ان میں کچھ کمزوری باقی ہے۔غریب آدمی جب کسی مجبوری کے پیش نظر شرح میں کمی کرنا چاہتا ہے تو وہ بے دھڑک معافی کے لئے خط لکھ دیتا ہے۔اس کا معاملہ 332