تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 331

تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرمودہ 04 اپریل 1986ء چندہ دینے والے اور اسے خرچ کرنے والے ہر دو اپنے معیار تقویٰ کو بلند کریں خطبہ جمعہ فرمودہ 04 اپریل 1986ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔دوگزشتہ خطبہ میں، میں نے مالی قربانی کرنے والوں کے متعلق کچھ امور بیان کئے تھے۔اور اس بات پر زور دیا تھا کہ مالی قربانی کرتے وقت تقویٰ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔اس سلسلہ میں اب صرف اتنا کہہ کر مضمون کے اس حصہ کو ختم کروں گا کہ عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ چندہ عام وغیرہ میں شرح سے کم دینے والے وہ لوگ ہیں، جو بوجہ غربت ایسا نہیں کر سکتے۔میرا لمبا تجر بہ اس کے بالکل برعکس ہے۔مختلف حیثیتوں سے میں نے سلسلہ میں مختلف خدمتیں سرانجام دی ہیں۔بحیثیت مجلس خدام الاحمدیہ کے رکن ہونے کی حیثیت سے بھی اور وقف جدید کے تعلق میں بھی اور نظام جماعت کے دیگر شعبوں سے تعلق کے لحاظ سے بھی۔اور ہر جگہ میں نے بالعموم یہ دیکھا ہے کہ غرباء اپنی مالی قربانی میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت آگے ہیں۔اور شرح کے مطابق چندہ دینے میں جو وہاں تناسب ملتا ہے، وہ امراء کے ہاں نہیں ملتا۔اور عجیب بات ہے کہ جتنا آپ او پر چلتے ہیں، اتناہی صورت برعکس ہوتی چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ وہ لوگ ، جن کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی فضل سے نوازا ہے اور بہت دولت عطا کی ہے، ان کے لئے چندہ دینا تو مشکل نہیں لیکن شرح سے چندہ دینا بہت ہی بڑی مصیبت بن جاتا ہے۔در اصل انسان نسبتوں کی بجائے رقم کی مقدار دیکھنے کا عادی ہوتا ہے اور یہ انسانی فطرت ہے۔ایک غریب آدمی جس کو سو روپے ملتے ہیں ، وہ چھ روپے دیتا ہے تو اس کے نزدیک چھ روپے باوجود غربت کے چھ روپے ہی ہوتے ہیں۔اور اس کے لئے چھ روپے دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔صرف یہی بات نہیں اور بھی وجوہات ہیں۔ایک بہت بڑی وجہ غریب کے معیار قربانی کا بلند ہوتا ہے۔جو مقابلہ کی وجہ سے بھی اس میں پیدا ہوتی ہے۔جب وہ امیروں کو غیر معمولی طور پر تمھیں دیتا ہوا دیکھتا ہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ فلاں نے ہزار دیا اور فلاں نے دس ہزار دیا تو وہ اپنے چھ میں کمی کرنے کی پھر استطاعت ہی نہیں پاتا۔ایسا شرمندہ ہوتا ہے، وہ چھ روپے دیتے ہوئے بھی کہ ساتھ استغفار کر رہا ہوتا ہے۔کاش مجھ میں تو فیق ہوتی تو میں اس سے زیادہ دیتا۔331