تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 267

تحریک جدید - ایک الہی تحریک وو اقتباس از خطبه جمعه فرمود 08 نومبر 1985ء ولتنظر نفس ما قدمت لغد خطبہ جمعہ فرمودہ 08 نومبر 1985ء بسید نا ومولانا حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جوا با فرمایا تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ سوال تو یہ تھا کہ کب آئے گی؟ اور جواب یہ ہے کہ کیا تیاری کی ہے؟ تو بعض اوقات آنے والی چیز کا انتظار اتنا اہم نہیں ہوتا، جتنا اس کی تیاری اہمیت رکھتی ہے۔اس لئے نہایت ہی حکیمانہ اسلوب تھا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا۔آپ نے اصل سوال کو چھوڑ کر ، جواد فی اہمیت کا سوال تھا، اس سے بڑی اہمیت کے سوال کا جواب دیا اور فرمایا کہ تم نے تیاری کیا کی ہے؟ قیامت تو کوئی ایسا تماشہ نہیں ہے کہ جس کو تم دیکھو اور خوش ہو جاؤ اور تمہاری ذات کی تیاری کا اس سے تعلق کوئی نہ ہو۔اس لئے قیامت سے تو یہ خوف رکھنا چاہئے کہ جلدی نہ آجائے ، ہماری تیاری سے پہلے نہ آجائے۔پس بہت سے احمدی احباب جب مجھے یہ لکھتے ہیں یا مجھ سے پوچھتے ہیں کہ احمد بیت اور اسلام کی فتح اور غلبہ کا دن کب آئے گا ؟ تو میرا ذہن بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، جو ایک سوال کی صورت رکھتا ہے کہ تم نے اس کے لئے تیاری کیا کی ہے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ ان بدلے ہوئے حالات نے بہت سی اصلاح خود بخود کی ہے۔اور غیر معمولی روحانی تربیتی تبدیلیاں واقعہ ہوئی ہیں۔اور جب ان تبدیلیوں کی طرف نظر پڑتی ہے تو دل خوش بھی ہوتا ہے۔لیکن محض اچھی چیزوں پر نگاہ رکھنا اور خوشیوں کے تصور میں مگن رہنا، یہ حکیمانہ بات نہیں۔ذی شعور لوگ ، جہاں خوبیوں پر نظر رکھ کر، اچھی باتوں کو دیکھ کر اپنے حوصلے بڑھاتے ہیں، وہاں کمزوریوں پر بھی نگاہ ڈالتے جاتے ہیں۔تا کہ ایک مسلسل اصلاح کا سلسلہ بھی جاری رہے اور کمزوریاں ، خوبیوں میں تبدیل ہوتی رہیں۔پس وو جب بہت کی اطلاعیں خوش کن تبدیلیوں کی آتی ہیں تو ان کے نتیجہ میں کسی غلط انہی میں مبتلا نہیں ہوتا۔اتنے بڑے خلا ہیں ہمارے اندر تربیت کے اور جس سوسائٹی سے ہم نکل کر احمد ہی بن رہے ہیں، ان کے ساتھ ہماری تربیت کا ایک گہرا تعلق ہے، جو ٹوٹ نہیں سکتا۔ان کے اندر اتنی کمزوریاں واقع ہو چکی 267