تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 250
خطبہ جمعہ فرمودہ 25اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ اب جا کر یہ مضمون مکمل ہو جاتا ہے۔فرمایا: صرف یہی نہیں بلکہ جو تم خرچ کرتے ہو، اسے تمہیں لوٹا بھی دیں گے۔يُوَفَّ إِلَيْكُمُ میں لفظ بوف بھر پور لوٹانے کا مضمون ادا کرتا ہے۔بظاہر تو یہ ہے کہ جتنا تم دے رہے ہو، اتنا تمہیں پورا پورا واپس کیا جائے گا۔لیکن یہ مراد نہیں ہے۔يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ نے اس مضمون کو کھول دیا ہے۔جب نفی میں کہا جائے کہ تمہیں نقصان نہیں ہوگا یا یہ نقصان کا سودا نہیں تو اس کا مثبت معنی ہوا کرتا ہے کہ بہت فائدے کا سودا ہے۔یہ ایک طرز کلام ہے، جو ہر زبان میں پائی جاتی ہے۔وَانتُمْ لَا تُظْلَمُون کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جتنا تم سے خدا نے لیا تھا بالکل اسی طرح پائی پائی واپس کر دے گا۔مراد یہ ہے کہ جب تم خدا کے ساتھ سودے کرتے ہو تو گھاٹے کے سودے نہیں ہوا کرتے، کسی قیمت پر بھی خدا تمہیں زیاں کا احساس نہیں رہنے دے گا۔اب بتائیے کہ کیا یہ انفاق فی سبیل الله حمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار کو باقی سب دنیا کے خرچ کرنے والوں سے ممتاز کر دیتا ہے کہ نہیں کر دیتا؟ ایسے سودے تو رسولوں کے ماننے والوں کے سوا اور ان کے متبعین کے سواد نیا کی کسی قوم کو نصیب ہوا ہی نہیں کرتے۔یہ وہ امتیازی شان ہے، جو بتا رہی ہے کہ وما للظالمين من انصارا اگر کسی دعویدار کو ایسے لوگ نصیب ہو جائیں، جن کے خرچ کی ایسی ادائیں ہوں ، جن کی یہ خصلتیں ہوں ، جن کے ساتھ خدا کا پھر یہ سلوک ہو کہ ان کے اعمال بھی ساتھ سدھر رہے ہوں اور ان کے اموال بھی کم نہ ہور ہے ہوں بلکہ بڑھ رہے ہوں۔اس دنیا میں بھی ان کو پہلے سے بڑھ کر عطا ہورہا ہو۔ایسے لوگ دکھاؤ کہ غیروں میں بھی کہیں ملتے ہیں۔یہ ہے اعلان آیت کا ، یہ ہے وہ چیلنج، جس کو دنیا کی کوئی قوم بھی قبول کرے تو اس کو ثابت نہیں کر سکتی۔ایسی عظیم الشان ایک امتیازی شان ہے انبیاء کی ، جس کو ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کے ماننے والے پھر ان شکلوں کے ہو جاتے ہیں، ان صفات کے ہو جاتے ہیں، ان انعامات کے مورد بن جاتے ہیں، خدا تعالیٰ سے یہ یہ رحمتیں ان کو نصیب ہوتی ہیں، یہ یہ فضل عطا کئے جاتے ہیں۔آج جماعت احمدیہ کی تصویر ان آیات میں موجود ہے۔لاکھ دنیا شور مچائے، چیخنے چلائے، گالیاں دے ہتہمتیں باندھے، ظلم و ستم کا بیڑا اٹھائے ، مگر یہ تین آیات کا جو مضمون ہے، یہ جماعت احمدیہ سے چھین نہیں سکتی۔ایسی امتیازی شان ہے جماعت احمدیہ میں یہ کہ ہر پہلو سے خدا کے فضل کے ساتھ یہ مضمون جماعت احمدیہ کے اوپر پورا اتر رہا ہے۔خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے جانتے ہیں، ان کی 250