تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 249 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 249

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1985ء ہونے کے مقام سے ہٹایا جارہا ہے۔مراد یہ ہے کہ تو ہادی ہے لیکن اس کے باوجود دلوں کی باریکیوں تک تیری نگاہ نہیں ہے، اعمال کی باریکیوں تک تیری نگاہ نہیں ہے۔جو نیکی کرتا ہے، تجھے دکھائی دے گا تو تو اس کے لئے دعا کرے گا، اس کے ساتھ حسن سلوک کرے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ، جو پس پردہ انسانی نیتوں کی خبر رکھتا ہے، جو اعمال کی نیتوں اور ان کی کنہ سے واقف ہے۔اور پھر اعمال کی تفصیلات پر جس کی نظر ہے۔اور پھر ہر انسان کے اعمال پر اس کی نظر ہے، وہ اختیار رکھتا ہے کہ اگر چاہے تو ان کو درست کر دے۔یعنی کام تو تیرا ہے، لیکن کرنا اللہ نے ہے۔بادی تجھے بنایا ہے لیکن ہدایت کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔تاکہ تجھ پر طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ بنے۔اس لئے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا فیض ، جو لوگوں تک پہنچتا ہے، اس فیض کو خدا خود لوگوں تک پہنچا تا ہے۔خدا فرمارہا ہے کہ بادی تو ، تو ہے، لیکن ہدایت دینا ہمارا کام ہے، اس کی ذمہ داری ہم نے اٹھالی ہے۔وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلاَ نْفُسِكُمُ کہ کر پھر اس مضمون کو کھول دیا کہ جو کچھ تم اپنے اوپر خرچ کرتے ہو، اپنے لئے خرچ کرتے ہو، یعنی پہلی آیت نے تو یہ ظاہر کیا تھا کہ بس بات یہاں ہی ختم ہو گئی۔جس کی خاطر خرچ کرنا تھا، اس کو پہنچ گیا۔وہ جانتا ہے، اس کو خوب علم ہے، اس لئے تم راضی ہو کر لوٹ آئے۔دنیا کے معاملات میں یہی ہوا کرتا ہے، وہ تحفہ ، جو رضا کی خاطر دیا جاتا ہے، اس تحفہ میں جب اس شخص کو پہنچ جائے ، اس کو علم ہو جائے تو مضمون و ہیں ختم ہو جایا کرتا ہے، رضا حاصل ہوگئی۔تو فرمایا: رضا تو تمہیں حاصل ہو گئی تھی ، اس کے علاوہ بھی مالی قربانیوں میں بہت فائدے ہیں۔ایک یہ کہ خدا تمہاری اصلاح کا بیڑا اٹھا لیتا ہے، اصلاح کی ذمہ داری قبول فرمالیتا ہے۔اور ہر خرچ کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ تمہیں ایک نیا حسن عطا کرتا ہے۔چنانچہ یہ جو کچھ بھی تم خرچ کرتے ہو عملاً تم اپنے لئے خرچ کر رہے ہو۔لیکن ساتھ ہی فرمایا:۔وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاء وَجْهِ اللهِ تمہاری نیست یہ نہیں ہوتی کہ تم ٹھیک ہو، خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ تمہاری نیست یہی رہتی ہے کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔اس لئے جب یہ نیت ہوگی کہ خدا کی رضا حاصل ہو تو اس کے طبعی نتیجہ میں تمہاری اصلاح ہو رہی ہوتی ہے۔اور اگر تم یہ نیت رکھو کہ مجھے کوئی فائدہ حاصل ہوگا تو نہ تمہیں رضا حاصل ہوگی اور نہ کوئی فائدہ حاصل ہوگا۔اس لئے دوبارہ توجہ دلا دی کہ ہم یہ تو تمہیں بتا رہے ہیں کہ فائدہ تمہیں ہی پہنچے گا لیکن خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے کبھی بھی اپنے فائدہ کی نیت پیش نظر نہ رکھنا۔کیونکہ یہ فائدہ تمہیں تب پہنچے گا، جب تمہاری نیست رضائے باری تعالیٰ کے حصول کے سوا اور کچھ نہیں ہوگی۔249