تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 248

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم اور جانتا ہے کہ ان چندوں کے ساتھ باقی اعمال کا توازن بھی قائم ہونا چاہئے۔جتنا تم مالی قربانی میں آگے بڑھو گے، خدا نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ تمہاری اصلاح فرما تا چلا جائے گا۔پس یہ ایک دوسرا ثبوت ہے، انصار الی اللہ کا۔دوسری صفت ہے ان کی ، دوسری خصلت ہے۔اور اس کے نتیجہ میں خدا کا سلوک ان کے ساتھ بہت احسان والا ہے، جو غیر اللہ کی خاطر قربانی کرنے والوں میں نظر نہیں آئے گا۔جب وہ بدیوں کی خاطر قربانی دیتے ہیں یعنی بظا ہر قربانی نظر آتی ہے لیکن بد کام کے لئے خرچ کرتے ہیں، غلط نیتوں سے خرچ کرتے ہیں، غلط مقاصد پر خرچ کرتے ہیں ، غلط لوگوں پر خرچ کرتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں اس کا بر عکس منظر آپ کو دکھائی دے گا۔ان اخراجات کے بعد ان کے اعمال سدھرتے نہیں بلکہ بد سے بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں، ریا کار زیادہ سے زیادہ بڑے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔سوسائٹی میں بظاہر نیک کاموں پر اموال خرچ ہورہے ہوتے ہیں لیکن دن بدن ساری سوسائٹی ریا کاری کا شکار ہورہی ہوتی ہے۔اخباروں میں نام اور تصویریں چھپنے کی خاطر لوگوں کے جلسوں میں سب کے سامنے بڑے لوگوں کو چیک پیش کئے جاتے ہیں۔لوگوں سے داد لینے کے لئے۔اس کے نتیجہ میں وہ گندے مال کی طلب میں اور بڑھ جاتے ہیں۔حرام کھانے میں ان کی جھجک پہلے سے بھی زیادہ اٹھ جاتی ہے۔دو مختلف مضمون ہیں، دو مختلف رخ ہیں۔ایک وہ انصار ہیں، جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئے اور آپ کے بعد آپ کی غلامی میں آپ کے اور نمائندگان کو بھی ہمیشہ کے لئے عطا ہوتے رہیں گے۔اور ایک وہ انصار ہیں، جو غیر اللہ کے لئے خرچ کرتے ہیں، غیر مقاصد کے لئے خرچ کرتے ہیں، ان کے اعمال بد سے بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔جو پہلا گروہ ہے، ويكفر عنكم من سياتكم کا وعدہ ان کی ذات میں پورا ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔اور دوسرے خرچ کرنے والوں کے اعمال بد سے بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ فرمایا : والله بما تعملون خبیر تمہارے ہر عمل پر چونکہ خدا کی نظر ہے، اس کو پتہ ہے کہ تمہارے اعمال کے کس حصہ میں کمی واقعہ ہوئی ہے اور اسے سدھارنا ضروری ہے۔اس لئے تم مطمئن رہو، اصلاح کرنے والے تو ہم ہیں۔اس کے ساتھ ہی فرمایا:۔لَيْسَ عَلَيْكَ هُدبُهُمْ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے ہادی تھے۔لیکن یہاں فرمایا: لیس علیک هدهم ان لوگوں کو ہدایت دینا تیری ذمہ داری نہیں ہے۔ولكن الله يهدي من يشاء اللہ جس کو چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوسکتا کہ نعوذ باللہ من ذالک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بادی 248