تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 247
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1985ء وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَاتِكُمْ کہ انصار، جو فی سبیل اللہ خرچ کرنے والے ہیں، ان کا خرچ و ہیں نہیں رک جایا کرتا بلکہ اس کا کے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔اس دنیا میں بھی نتائج پیدا ہوتے ہیں اور رضائے باری تعالیٰ کے علاوہ بھی ایک نتیجہ یہ ہے کہ ان کی بدیاں کم ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور نیکیاں بڑھنے لگتی ہیں۔یہ ایک عجیب مضمون ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ نیک لوگ، جو خدا کی خاطر خرچ کرتے ہیں، ان کی راہیں ہی الگ ہیں، ان لوگوں سے، جو خدا کے سوا کسی چیز پر خرچ کرتے ہیں۔یہ وہ انصار ہیں، جن کے متعلق فرمایا: وماللظالمين من انصار۔محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے انصار ملے ہیں، ان کی شکلیں تو دیکھو، یہ بالکل اور چیزیں ہیں۔ظالموں کو ایسے انصار نہیں ملا کرتے۔تمام دنیا کی قوموں کی مالی قربانیوں کی تاریخ پر نظر ڈالو، ایسے انصار ، جن کا ذکر قرآن کریم فرمارہا ہے، یہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوایا ان انبیاء کے سوا، جو آپ کی متابعت میں درجے پاگئے ، اور لوگوں کو نصیب نہیں ہوا کرتے۔جب میں یہ کہتا ہوں کہ متابعت میں درجے پاگئے تو مراد یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ مقصود تھے، اس لئے باقی انبیاء نے بھی انہی اخلاق حسنہ کی پیروی کی ہے، جن کو محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے انتہاء تک پہنچایا۔اور اس طرح ان کو بھی اسلام کے ٹکڑے نصیب ہوئے۔اس لئے کوئی نبی بھی ان معنوں میں اتباع محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے باہر نہیں رہتا۔اور جس نے جو بھی درجہ پایا ہے، اسی اتباع کے نتیجہ میں پایا ہے۔پھر فرمایا: والله بما تعملون خبیر۔اللہ تمہارے اعمال سے بھی خوب واقف ہے۔یعنی نیتوں سے بھی واقف ہے اور جانتا ہے کہ اچھی نیت ہے، پاک نیت ہے، صاف نیت ہے، خدا کی خاطر ہی خرچ کر رہے ہو اور قومی طور پر بھی خرچ کر رہے ہو اور انفرادی طور پر بھی خرچ کر رہے ہو۔اور پھر وہ اعمال کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے۔کیونکہ باوجود اس نیکی کے تمہارے اعمال میں رخنے بھی ہو سکتے ہیں، کئی لحاظ سے کمزوریاں بھی ہوسکتی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ لوگ طعنے دیں کہ چندے تو بڑے دیتا ہے لیکن فلاں کمزوری ہے، چندوں کا کیا فائدہ ہے۔اگر فلاں بات میں بدی موجود ہے تو چندوں کا کیا فائدہ ؟ اگر فلاں شخص سے اس کا معاملہ ٹھیک نہیں ہے تو چندوں کا کیا فائدہ؟ چندہ دینے والے کو چندہ نہ دینے والے اس قسم کے بہت طعنے دیا کرتے ہیں۔اور پھر دکھاوے کا الزام لگاتے ہیں۔کہتے ہیں چھوڑو جی ، چندوں کی خاطر ہی جماعت بنی ہے؟ اور بھی تو نیکیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ تمہارے اعمال کی خبر رکھتا ہے 247