تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 246
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک وَاِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ کی ایک عجیب تصویر اس وقت کھینچی گئی۔اور دوسرے دن باتیں شروع ہو گئیں اور لوگ ہنسنے لگے کہ مدینہ میں آج عجیب واقعہ ہوا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام دنیا سے چھپنے کی خاطر کہ بجز خدا کے کسی کوعلم نہ ہو سکے، رات کو نکلا اور ایک امیر آدمی کو صدقہ دے کر بھاگ گیا۔اتنا وقت بھی نہیں دیا کہ وہ شخص کہہ سکے کہ مجھے ضرورت نہیں ہے۔پھر وہ بچارہ دوسری رات کو نکلا اور پھر کسی ایسے شخص کو دے دیا، جس کو دینا مناسب نہیں تھا۔تین راتیں وہ اسی طرح مسلسل کوشش کرتا رہا اور آخر تک وہ یہ نہیں سمجھ سکا کہ میں نے کسی صحیح آدمی کو دیا بھی ہے کہ نہیں۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ اس مضمون کو یہاں تک پہنچاتے رہے کہ تخفوها کا مضمون ایسا کامل ہو جائے کہ جس شخص کو دیا جارہا ہے ، اس بھی پتہ نہ لگے مگر بہر حال اکثر اوقات، اکثر صورتوں میں جس کو دیا جاتا ہے، اس کو تو پتہ چل جاتا ہے۔چونکہ اللہ جانتا ہے کہ یہ شخص اخفاء چاہتا ہے اور کسی بدلہ کی تمنا نہیں رکھتا، اس لئے خدا تعالیٰ نے اس شخص کے اس پہلو کی حفاظت فرما دی۔جب یہ فرمایا کہ فان اللہ یعلمہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے سارے پہلوؤں کو جانتا ہے، اس لئے تم اتنا بھی ترد نہ کیا کرو کہ اخفاء میں حد ہی کر دو اور حد اعتدال سے گزر جاؤ تمہاری نیست چاہئے ، اگر تم چاہتے ہو کہ ریا کاری نہ ہو، اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی خاطر کسی کو دیا جائے تو اپنی نیت کو پاک اور صاف کر لو، پھر اگر کسی کو پتہ بھی چل جائے تو تمہاری قربانی اختفاء کے پردے میں ہی رہے گی۔یعنی خدا تعالی جن قربانیوں کو نفی فرماتا ہے، اسی شار میں تمہاری قربانی بھی گردانی جائے گی۔وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيَّاتِكُمْ فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری برائیوں کو دور کرتا ہے۔جب یہ تین صفات اکٹھی پڑھی جائیں تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ انصار الی اللہ کون ہیں اور غیر انصار الی اللہ کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں، جو ظالموں کو نصیب نہیں ہوا کرتے۔ساری دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں، اللہ کے نبیوں کے سوا اس قسم کے خرچ کرنے والے کسی کو نصیب نہیں ہوا کرتے۔وہ جب کھل کر دیتے ہیں تو اس لئے کھل کر دیتے ہیں کہ قومی قربانیوں میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور اخفاء ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔اور اس لئے بھی کھل کر دیتے ہیں تا کہ دوسرے لوگوں میں تحریک پیدا ہو اور قوم میں قربانی کا جذبہ پھیلے۔صرف اس پر انحصار نہیں کرتے ، پھر وہ چھپ کے بھی دیتے ہیں مخفی طور پر بھی دیتے ہیں تاکہ ان کے دل پر کسی قسم کا زنگ نہ لگ سکے اور ان کی نیتیں دونوں پہلوؤں سے صاف ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو تو اس کا ایک نتیجہ ظاہر ہوگا، 246