تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 245
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1985ء گیا۔اس کے بعد مزید ظاہر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ انسان کے دل میں یہ خیال آسکتا ہے کہ نیکی تو صرف یہ ہے کہ اس طرح اللہ خرچ کروں کہ کسی دوسرے کو کسی قیمت پر بھی اس کا علم نہ ہو، اس کے بغیر میرا انفاق قبول نہیں ہو گا۔یہ ایک وہمہ دل میں پیدا ہو سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم صدقات کو ظاہر کرو فنعماھی، یہ بھی بہت عمدہ بات ہے۔ظاہر کرو کے مضمون کا تعلق زیادہ تر قومی چندوں سے ہے، قومی اتفاقات سے ہے۔کیونکہ جب آپ قومی طور پر مالی قربانیوں میں حصہ لیتے ہیں تو معاملہ چھپ سکتا ہی نہیں۔اس کا اظہار کے ساتھ ایک ایسا ربط ہے، ایک ایسا گہرا تعلق ہے کہ وہ ٹوٹ نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ کو براہ راست تو آپ کوئی چندہ نہیں دے سکتے۔ایک جماعتی نظام کے طور پر ہی دیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب خدا اور بندے کے درمیان بطور رابطہ کے موجود تھے تو صحابہ کے لئے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں اپنی قربانیوں کو لا ڈالنے کے سوا چارہ نہیں تھا۔حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر قربانی کرنے والے اپنی مالی قربانی کو بعض دفعہ غیروں سے چھپانے کی کوشش میں اسے براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا کرتے تھے۔وہاں سے پھر ان کی اس قربانی کو شہرت مل جاتی تھی۔ان کی قربانی کو ظاہر کرنے سے غرض یہ ہوتی تھی کہ تادوسرے ان کا تتبع کریں۔قومی قربانیوں کا ان کے اظہار کے ساتھ ایک گہرا ربط ہے۔یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ قومی قربانیوں میں حصہ لیں اور اسے اس طرح چھپالیں۔اور اگر ممکن ہے بھی تو بہت بعید کی بات ہے کہ کسی فرد بشر کو اس کا علم نہ ہو سکے۔دوسرا پہلو جو ہے، وہ ذاتی اور انفرادی قربانیوں کا ہے۔انفرادی قربانیوں میں بات کو چھپایا جا سکتا ہے۔مثلاً جب آپ غرباء، کو، فقراء کو ، قیموں کو ، بیوگان کو کچھ دیتے ہیں تو اخفا کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ایک تو یہ کہ آپ ساری دنیا سے چھپا کے دے سکتے ہیں۔مگر اس صورت میں کہ جس کو دے رہے ہیں، اس کو پتہ چل جاتا ہے۔قرآن کریم نے چونکہ اخفاء کے ساتھ انفرادی قربانیوں کے مضمون کو باندھا ہے، اس لئے صحابہ نے بھی اس کا یہی مطلب سمجھا اور روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض دفعہ لوگ رات کو چھپ کے نکلتے تھے اور ایسے شخص کو ڈھونڈتے تھے، جو محتاج بھی ہو اور جس کو ضرورت بھی ہو اور اسے پتہ بھی نہ لگے۔اب رات کو چھپ کر نکلنا اور یہ فیصلہ کر لینا کہ کوئی شخص ضرورت مند ہے، یہ دو متضاد چیزیں ہیں۔چنانچہ ایسے ایسے دلچسپ واقعات رونما ہوئے کہ ایک شخص رات کو نکلا ہے اور صدقہ کسی دولت مند کو دے دیا اور وہاں سے دوڑ پڑا کہ اس کو پتہ نہ چلے۔پر 245