تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 222 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 222

خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم ذکر فرمایا کہ فرانس کی زمین سر دست اسلام کے لئے سنگلاخ معلوم ہوتی ہے۔اور اس قوم کے رویے میں تکبر پایا جاتا ہے۔اور پیرس خصوصیت کے ساتھ چونکہ ساری دنیا کی عیاشی کا مرکز ہے، اس لئے وہاں مادہ پرستی اور دنیا سے محبت کا جو رنگ ہے، وہ یورپ کے دوسرے شہروں میں نہیں ملتا۔تو پانچ سال کے تجربے کے بعد وہ مشن بند کر دیا گیا۔اس دفعہ بھی ہمارا تجربہ یہی رہا کہ فرانس میں خصوصیت کے ساتھ پیرس، کیونکہ جب میں فرانس کہتا ہوں تو فرانس تو ایک وسیع ملک ہے اور اس کے مختلف خطوں کے لوگ مختلف مزاج رکھتے ہیں ، اس لئے میں سارے فرانس کے متعلق کوئی فتویٰ نہیں دینا چاہتا۔لیکن پیرس خصوصیت کے ساتھ ایک ایسی جگہ ہے، جہاں ابھی بھی وہی دنیا پرستی کا رنگ غیر معمولی طور پر غالب ہے۔اور اہل فرانس کے مزاج کو اگر پیرس کے پیمانے سے ماپا جائے تو آج بھی یہی فیصلہ ہوگا کہ نہایت متکبر ہیں اور دنیا پرست ہیں۔لیکن میرے نزدیک یہ پیمانہ درست نہیں۔نہ لندن سے انگریز کا مزاج پہچانا جاسکتا ہے، نہ پیرس سے اہل فرانس کا مزاج پہچانا جا ہے۔South of France جہاں جہاں سے ہم گزرے ہیں، وہاں بالکل اور قسم کے لوگ ہم نے دیکھے۔بڑے خلیق اور مہمان نواز اور ہنس مکھ، باہر سے آنے والوں کا کھلے بازوؤں سے استقبال کرنے سکتا۔والے، ان کے رنگ بالکل مختلف تھے لیکن پیرس میں بالکل ایک اور رنگ نظر آیا۔بہر حال اس مشن کا افتتاح ہوا دعاؤں کے ساتھ اور پر سوز دعاؤں کے ساتھ اور جماعت فرانس کی ایک کافی تعداد خدا کے فضل سے وہاں موجود تھی۔جماعت فرانس کو ایک مرکز مل گیا ہے اور امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اب وہاں احمدیت کا نور دن بدن زیادہ شان کے ساتھ ، زیادہ وسعت کے ساتھ اور جہاں تک دلوں کا تعلق ہے، زیادہ گہرائی کے ساتھ ہر طرف منتشر ہونے لگے گا۔فرانس کا نچھ اتنا قصور بھی نہیں کیونکہ فرانس تعارف کے لحاظ سے ابھی بہت پیچھے ہے۔عجیب اتفاق ہوا ہے کہ فرانس اور فرانس کی جو Colonics تھیں، ان سب جگہ میں احمدیت کا تعارف بہت دیر سے شروع ہوا ہے۔افریقہ میں بھی جہاں جہاں فرانس کی حکومت تھی ، فرانس کا رسوخ تھا، وہاں جماعتی تعارف بہت لیٹ شروع ہوا ہے۔تو ان چیزوں کا بہت اثر پڑتا ہے۔ان کو پوری طرح علم نہیں کہ جماعت ہے کیا ؟ ان کو ہماری عالمی حیثیت کا ہی پتہ کچھ نہیں۔اس لئے وقت لگے گا۔لیکن بہر حال مجھے تو اس تجربے سے جو اہل فرانس کی آواز آئی ہے، وہ یہ ہے کہ بہرہ ہوں میں تو چاہئے دونا ہو التفات سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر (دیوان غالب صفحه 111) | 222