تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 14
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 22 مارچ 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم پاکستان سے ایک دفعہ ایک وفد نائیجریا گیا۔اس کا سارا خرچ حکومت پاکستان نے برداشت کیا تھا۔اس وفد کو اس لئے بھجوایا گیا تھا کہ مغربی افریقہ کے ممالک میں دورہ کر کے جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت پھیلائی جائے اور ان لوگوں کو اکسایا جائے کہ وہ بھی احمدیت کے مخالفین میں شامل ہو جائیں تاکہ مل کر اس جماعت کی بیخ کنی کی جائے۔یہ پرانی بات ہے۔اس وقت مولانا نسیم سیفی صاحب نائیجریا میں ہمارے مبلغ انچارج ہوا کرتے تھے۔تو اس وفد کے متعلق یہ دلچسپ بات معلوم ہوئی کہ ان کی کسی نے پذیرائی ہی نہ کی۔نہ تو ان کو ریڈیو پر موقع ملا اور نہ ہی ان کو ٹیلی ویژن میں آنے دیا گیا۔اخباروں نے بھی کوئی خبر شائع نہ کی۔تو احمدیت کی بیخ کنی پر مامور پاکستانی وفد ہمارے مبلغ سے درخواست کرنے پر مجبور ہو گیا اور کہنے لگا: بڑے بے عزت اور ذلیل ہورہے ہیں، خدا کے لئے ہمارا کچھ انتظام کرو، ہم واپس جا کر کیا منہ دکھائیں گے۔چنانچہ ہمارے مبلغ نے اس وقت کے نائب وزیر اعظم سے درخواست کی کہ پاکستانی ہمارے بھائی ہیں، اتنا ظلم نہ کرو۔خواہ کسی بھی نیت سے آئے ہیں، ان کی تھوڑی سی حوصلہ افزائی تو ضرور ہونی چاہیے۔چنانچہ نائب وزیر اعظم صاحب نے کہا: ہم ان کی دعوت کرتے ہیں اور آپ بھی تشریف لائیں اور خطاب کریں۔چنانچہ وفد کی دعوت کی گئی اور وہاں انہوں نے جو خطاب کیا، اس میں بھی وہ شرارت سے باز نہ آئے اور بعض ایسے فقرے استعمال کر دیئے، جن سے جماعت احمدیہ کے متعلق شکوک پیدا ہو سکتے تھے۔نائب وزیر اعظم صاحب بڑے ذہین آدمی تھے، مسکرا کر سنتے رہے۔آخر میں جب وہ تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میاں! آپ کسی جہان کی بات کر رہے ہیں۔افریقہ پر جب دنیا کی نظر ہی کوئی نہیں تھی، کیونکہ یہ ایک تاریک براعظم تصور کیا جاتا تھا، جب افریقہ کا نام مصیبتوں اور دکھوں کے ساتھ وابستہ تھا، اس وقت آپ لوگ تو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔کس نے ہماری فکر کی یہ جماعت احمدیہ ہے، جس نے ہمیں عیسائیوں کے چنگل سے نجات دلائی۔یہ جماعت احمدیہ ہے، جس نے ہمیں انسانیت کے سبق سکھائے۔اس جماعت کے متعلق آج تم یہ کہنے کے لئے آگئے ہو کہ تمہارے تعلقات کی بناء پر ہم اس جماعت کی دشمنی شروع کر دیں تو یہ خیال دل سے نکال دو۔یہ خیال واپس لے جاؤ اپنے ملک میں۔یہ جماعت ہماری حسن ہے۔اور ہم اور جو کچھ بھی ہوں محسن کش بہر حال نہیں۔مگر اب یہ لوگ سارے واقعات بھول گئے ہیں اور سمجھتے ہیں، افریقہ میں پتہ ہی کچھ نہیں کیا ہو رہا ہے۔بس قرطاس ابیض پڑھیں گے اور ایک دم کہ دیں گے، اوہ بڑی خراب جماعت ہے۔اس کو ہلاک کر دینا چاہیے۔ساری دنیا ہوش رکھتی ہے، بے عقل نہیں ہے۔ان کو پتہ ہے، کیا ہورہا ہے؟ وہ نہ صرف اپنی تاریخ سے واقف ہیں بلکہ تمہاری تاریخ سے بھی واقف ہیں۔14