تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 173

تحریک جدید - ایک الی تحریک۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 ستمبر 1985ء تشریف لائے ہوئے تھے۔بہت لمبا عرصہ وہاں بھی سوال وجواب کی مجلس چلتی رہی اور سارے دوست بڑی گہری دلچسپی لیتے رہے۔کھانے کے بعد بھی ٹھہر گئے اور کھانے کے بعد بھی پھر ایک مجلس لگ گئی۔بعض دوست مزید باتیں کرنا چاہتے تھے۔جوان کے دلوں کی کیفیت نظر آئی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت اسلام کے پھیلنے کے وسیع امکانات پیدا ہو گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے دلوں کو تبدیل کر رہے ہیں۔اور یہ ساری ابتلاء کی برکت ہے۔اس جگہ میں پہلے بھی آتارہا ہوں، خلافت سے پہلے بھی ، خلافت کے بعد بھی اور اس قسم کے عمومی رحجانات کہ عربوں میں بھی، یور پینز میں بھی اس طرح توجہ پیدا ہوئی ہو اور جماعت کے لئے نرم گوشے پیدا ہو گئے ہوں، یہ پہلے کبھی نظر نہیں آیا۔عربوں میں تو خدا کے فضل سے اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی تحریک ملتی ہے کہ جن کو آپ سب سے زیادہ سخت سمجھتے تھے، وہ آج احمدیت کے لئے سب سے زیادہ نرم ہو گئے ہیں۔کہیں اتنی جلدی کوئی قوم بیعت نہیں کر رہی، جتنی جلدی اب عرب کر رہے ہیں۔میں یہ باتیں آپ کو اس لئے بتا رہا ہوں کہ اب آپ کا فرض ہے کہ اس پکے ہوئے پھل کو محفوظ کریں اور سنبھالیں۔جب خدا کی طرف سے پھل پکنے کے وقت آتے ہیں تو ان کو سنبھالنا ایک بڑی ذمہ داری ہو جایا کرتی ہے۔اور جو لوگ سنبھال نہیں سکتے ، ان کا پھل پھر ضائع ہو جاتا ہے ، گل سڑ جاتا ہے۔اپنے ہاتھ نہیں آتا بلکہ پھر دوسرے جانور کھا جاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ آج کے زمانے میں پرانی تہذیب، پرانے تجربوں سے سب انسان مایوس ہیں، کسی کو سکون میسر نہیں ہے۔اور اگر ان کو صحیح معنوں میں ایسے لوگ ملیں ، جن کا تعلق خدا سے ان کو محسوس ہو، یہ ایک بنیادی شرط ہے تو ان کی طرف وہ بہت تیزی سے مائل ہوں گے۔ورنہ فرضی باتوں کی طرف وہ مائل نہیں ہوں گے۔فرضی باتیں تو انہوں نے پہلے بھی بہت دیکھی ہیں اور ان فرضی باتوں سے تنگ آئے پڑے ہیں۔اس لئے عملاً خدا تعالیٰ کا قرب، جو انسان کی شخصیت میں تبدیلی پیدا کر دیا کرتا ہے، وہ قرب پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اور اگر آپ یہ کر لیں تو ایک عظیم الشان تاریخی انقلاب میں آپ حصہ لینے والے بن جائیں گے۔اور یہ وہ کام ہے، جو بظاہر بہت ہی بڑا مشکل نظر آتا ہے۔کیونکہ انسانی زندگی کا مقصود سب سے اوپر کا کام ہے۔لیکن سب سے آسان بھی ہے۔کیونکہ اگر میں آپ کو کہوں کہ علم کے لحاظ سے مبلغ بنیں تو اس کے لئے تو بہت ہی پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔زبانیں سیکھنی پڑیں گی اور عربی کی بنیادی تعلیم حاصل کرنی پڑے گی، قرآن کریم کا مطالعہ ہے، احادیث کا مطالعہ ہے، گذشتہ علماء نے کیا کچھ لکھا؟ 173