تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 151
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔خطبہ جمعہ فرموده 13 ستمبر 1985ء اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اب ہمیں ہالینڈ میں یہ دوسرا مرکز عطا فرمایا ہے۔جو یورو بین مراکز کی تحریک کا یہ ایک بچہ ہے۔تحریک تو میں نے دو مراکز کے لئے کی تھی، ایک جرمنی میں اور ایک انگلستان میں۔لیکن اللہ تعالیٰ عجیب شان سے اپنے وعدوں کو پورے فرماتا ہے۔ہمیشہ توقع سے بہت بڑھ کر عطا کرتا ہے۔اور جتنی چھلانگ ہماری امنگیں لگا سکتی ہیں، ان سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی اجابت دعا رحمت لے کر نازل ہوتی ہے۔اور بہت زیادہ رفعتیں عطا کرتی ہے، اس سے جو ہم تصور باندھتے ہیں۔چنانچہ اس دور ابتلاء کا یہ بھی ایک کرشمہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے ہم نے دو مرکز مانگے تھے، خدا تعالیٰ نے دو سے زائد دیئے اور اب یہ تیسرا مرکز ہے۔ایک جرمنی میں ہے، جس کا افتتاح بعد میں ہوگا۔لیکن جوں جوں افتتاح ہوتا رہے گا، میں بتاتا چلا جاؤں گا آپ کو۔تو بہر حال یہ دوسرا مرکز ہے، جس کا افتتاح ہو رہا ہے۔اور یہ ہماری امیدوں سے ، ہمارے منصوبوں سے بالکل الگ ایک نئی چیز عطا ہوئی ہے۔اس مرکز کی تفصیل یہ ہے کہ جب میں گزشتہ مرتبہ ہالینڈ آیا تو محسوس کیا کہ مسجد بہت ہی چھوٹی ہو گئی ہے اور رہائش کی جگہیں بھی بہت ہی محدود ہیں۔دو مربی بھی وہاں ٹھیک طریق پر اپنے خاندانوں سمیت نہیں ٹھہر سکتے۔بہت تنگی میں گزارہ کر رہے تھے۔اور جب کوئی باہر سے مہمان آئے تو کم سے کم ایک مربی کو تو ضرور باہر جانا پڑتا ہے۔ورنہ زیادہ مہمان ہوں تو دونوں مربیوں کو جگہ خالی کر کے خود کسی کا مہمان بننا پڑتا ہے۔عورتوں کے لئے الگ کوئی انتظام نہیں تھا، بچوں کے لئے وہاں کوئی انتظام نہیں تھا۔اور کافی وقتیں تھیں۔تو وہاں یہ تحریک ہوئی کہ ہالینڈ کو اپنی کوئی جگہ بنانی چاہئے۔جائزہ لیا گیا کہ اس بلڈنگ کو وسیع کرنے کے کہاں تک امکانات ہیں؟ اور وہ جو سکیم ہے، وہ اپنی جگہ ابھی بھی چل رہی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ حسب توفیق اس عمارت کو بھی وسعت دی جائے گی۔کیونکہ ہیگ کی جماعت کے لئے بھی وہ کافی نہیں رہی۔لیکن اس کے ساتھ ہی ایک کمیٹی یہاں بنائی گئی، جس میں مردوں کے علاوہ ایک خاتون مسز باہری بھی شامل ہیں۔اور ان سے کہا گیا کہ آپ اپنی توفیق کے مطابق سارے ہالینڈ پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ کون سی امکانی طور پر اچھی ہوسکتی ہے، جہاں ہمیں کوئی جگہ مل جائے؟ مجھے کمیٹی والوں نے بتایا کہ بہت مہنگی جگہیں ہیں، زمین بھی یہاں مشکل سے ملتی ہے، سوائے اس کے کہ کسی دور کے علاقے میں کسی چھوڑی ہوئی خانقاہ کو آپ لینا پسند کریں۔میں نے کہا: وہ تو ہم نہیں پسند کرتے ، ہمیں تو کوئی باقاعدہ شریفانہ جگہ چاہئے۔شریفانہ میں اس لئے کہ رہا ہوں کہ خانقاہیں تو شریفانہ ہی ہوتی ہیں لیکن وہاں بتایا گیا ہے کہ مجرموں نے بھی وہاں اڈے لگائے ہوئے ہوتے ہیں اور افیون کے رسیا لوگ اور Drug Addicts ( منشیات کے عادی) جن کو اور جگہ نہیں ملتی ، 151