تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 149
تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد من وارض الله واسعة خطبہ جمعہ فرمودہ 13 ستمبر 1985ء تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔خطبہ جمعہ فرمود 130 ستمبر 1985ء گزشتہ خطبہ میں، میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا اقطعی اور واضح وعدہ ہے کہ وہ لوگ ، جو میری خاطر دکھ دیئے جاتے ہیں، جو صبر اور حوصلہ کے ساتھ محض میرے نام کی خاطر اور میری عزت کی خاطر تکلیفیں برداشت کرتے ہیں، میں ان کو انعام پر انعام دیتا ہوں، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔اور خصوصیت کے ساتھ اس دنیا میں انعام کا ذکر اس لئے فرمایا گیا کہ لوگ کہیں اس خیال سے مایوس نہ ہو جائیں یا کمزور ایمان رکھنے والے ٹھو کر نہ کھا جائیں کہ آخرت کے وعدے ہیں اور آخرت کس نے دیکھی ہے۔اس لئے اس موقع پر جہاں دکھوں کا ذکر ہے، وہاں فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً (الزمر : 11) پر زور دیا گیا۔یہ بتانے کے لئے کہ تم اس دنیا میں ہی اپنے نیک اعمال کا اجر پا جاؤ گے۔تا کہ تمہیں یقین ہو اور تمہارے ایمان میں اضافہ ہو کہ آخرت میں یہی خدا ہے، جو انعام و اکرام دینے کا وعدہ کر رہا ہے، اس سے بہت بڑھ کر وہ ہم سے اپنے وعدے پورے فرمائے گا۔اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَاَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ (الزمر : 11) یقینا خدا کی زمین بہت بڑھنے والی ہے۔وسیع ہے بھی اس کے معنی ہیں اور وسعت پذیر ہے بھی اس کا ترجمہ کیا جاسکتا ہے۔اور اس موقع پر خصوصیت کے ساتھ زیادہ موزوں معنی وسعت پذیر کے ہوں گے۔کہ لوگ تو تمہیں تنگ کرنے کی کوشش کریں گے، تمہارے حلقے تم پر تنگ کرتے چلے جائیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ تمہاری زمینیں چھوٹی ہو گئیں لیکن تم جب خدا کی خاطر یہ تکلیفیں برداشت کر رہے ہو تو تم اللہ کی زمین میں آگئے ہو اور اللہ کی زمین کو کون تنگ کر سکتا ہے۔149