تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 134

خلاصه خطاب فرمودہ 25 اگست 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اور اس زندگی کے لئے اس وقت کا سب سے اہم تقاضا تبلیغ ہے۔اور سب سے بڑا جہاد تبلیغ ہے۔اور جس طرح جہاد میں اسلحہ کا استعمال ہوتا ہے اور بعض ہتھیاروں کی ضرورت ہوتی ہے اور جنگ میں ہتھیار استعمال کرنے کا طریقہ آنا ضروری ہے ورنہ بعض اوقات وہی ہتھیار اپنے خلاف استعمال ہونے لگتے ہیں۔پس جہاں تبلیغ کے لئے دلائل اور کتب کا مطالعہ بہت ضروری ہے، وہاں سب سے مقدم ہتھیار دعا ہے۔اس کے بغیر کسی کام کی توفیق نہیں مل سکتی۔نہ پڑھنے اور نہ سمجھنے کی۔دعا کے بغیر نہ خدا سے محبت کا تعلق پیدا ہوسکتا ہے اور نہ قرآن اور حدیث کا علم حاصل ہوسکتا ہے۔کیونکہ قرآن کریم کے علم کے لئے یہ شرط ہے کہ لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ اسے صرف پاک لوگ ہی حاصل کر سکتے ہیں“۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا:۔یہ دعا ایک بہت بڑا خزانہ ہے، جو احمدیت کے ساتھ ہمیں ملا ہے۔اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ہمیں اس کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔اور آپ نے شدت اور کثرت کے ساتھ دعا کی اہمیت واضح کی ہے۔پرانی تمام کتب، جو پہلے بزرگوں نے لکھیں ، ان سب کو جمع بھی کر دیا جائے ، تب بھی اپنی اہمیت ، کثرت، شدت اور حکمت کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود کی کتب کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔پس تبلیغ کو دعا کے ساتھ شروع کریں۔اور دعا کو اپنا اوڑھنا، بچھونا بنا ئیں۔پھر دیکھیں کہ آپ کے لئے کس طرح تبلیغ کے نئے نئے راستے کھلتے ہیں، نئے نئے دلائل سوجھتے ہیں، خطرات کے وقت اور مشکل فیصلوں کے وقت کس طرح آپ کے لئے آسانی کے سامان پیدا ہوتے ہیں“۔فرمایا:۔دعا کے بعد دوسرا ہتھیار تعلق باللہ ہے۔کیونکہ ہتھیار خواہ کتنا بھی اعلیٰ ہو، اس کو چلانے کے لئے طاقت (انرجی) کی ضرورت ہوتی ہے۔چلانے کے فن اور داؤ پیچ کے علاوہ طاقت بھی بہت ضروری ہوتی ہے۔تبلیغ میں یہ طاقت (انرجی) اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے۔جس طرح مادی دنیا میں ہر قسم کی طاقت کا انحصار یا ہر قسم کی طاقت کا سر چشمہ سورج ہے، اسی طرح روحانی دنیا میں تمام تر طاقتوں کا سر چشمہ تعلق باللہ ہے۔اور دعا کی جان بھی اللہ تعالیٰ کی محبت میں ہے۔پس اپنے عسرویسر میں خدا تعالیٰ سے تعلق قائم رکھیں۔کیونکہ امن کے وقت میں اگر کسی طرح تعلق قائم ہو تو وہی مشکل میں بھی کام آتا ہے۔ورنہ مشکل میں تعلق قائم کر نازیادہ مشکل ہو جاتا ہے“۔134