تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 122 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 122

خلاصہ خطاب فرمودہ 27 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم جماعت احمدیہ کو دیکھ کر اب غیر احمدی حضرات بھی اسلامی معاشرہ کو غیر اسلامی معاشروں سے بہتر قرار دینے لگے ہیں۔لیکن وہ صرف تھیوری پیش کرتے ہیں اور ان کے پاس اس موجودہ دور میں کوئی عملی نمونہ نہیں، جو تھیوری کی صداقت میں پیش کر سکیں۔جبکہ تھیوری ایک خواب ہوتی ہے اور نمونہ حقیقت ہوتی ہے۔اور خواب میں انسان خواہ ساری دنیا کا مالک بن جائے لیکن ایسی خواب کی خاطر انسان ان دو پونڈ زکو بھی چھوڑنے کو تیار نہ ہوگا، جو حقیقتاً اس کے پاس موجود ہیں۔جماعت احمدیہ نے تھیوری کے ساتھ ساتھ قادیان اور ر بوہ کی صورت میں اسلامی معاشرہ کا نمونہ بھی پیدا کیا ہے۔لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں بسنے والا احمدی اپنے ماحول کو اسلامی معاشرہ کا نمونہ بنا دے۔اور اسی مقصد کے پیش نظر اس سمر سکول کا اجراء کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب میں نے اس کلاس کا پروگرام دیکھا تو میں نے ہدایت کی کہ اس میں تیراندازی، نشانه بندوق، تیرا کی، کرائے اور مارشل آرٹس کی کھیلوں کو بھی شامل کیا جائے۔اور میں نے بتایا کہ حضرت مصلح موعود کا طریق یہ ہوا کرتا تھا کہ آپ اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو تمام صحت مند مشاغل زندگی میں لینے کی نہ صرف اجازت دیتے تھے بلکہ خود بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے تھے۔علاوہ ازیں بچپن سے ہمارے دلوں میں اس بات کو راسخ کیا کہ تکلیف کے وقت سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور اس سے دعا کرو۔کیونکہ خدا تعالیٰ ایک زندہ حقیقت ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کی اس تربیت کا ہی نتیجہ ہے کہ آپ کی بیٹیاں امریکہ اور یورپ کے مغربی معاشروں میں گئیں اور انہوں نے تمام صحت مند دلچسپیوں میں پورا پورا حصہ لیا لیکن انہوں نے برقع نہیں چھوڑا۔اس لئے نہیں کہ ان کے خاوند اسے ناپسند کرتے تھے بلکہ اس لیے کہ انہیں حقیقی راحت اور خوشی بھی اسی میں ہی محسوس ہوئی۔قادیان میں لڑکیوں کا عمومی معیار ایسا تھا کہ تعلیم یافتہ لوگ ہمیشہ قادیان میں رشتہ کے خواہش مند ہوا کرتے تھے۔کیونکہ قادیان کی لڑکیاں زیادہ تعلیم یافتہ سمجھدار، سلیقہ شعار گھل مل جانے والی اور ہر قسم کی عمومی معلومات رکھنے کی وجہ سے خاوندوں کے ساتھ تمام موضوعات پر تبادلہ خیال کرنے کی اہلیت رکھتی تھیں۔یہاں، اس کلاس میں اگر چہ وہ ساری چیزیں یک دم تو پیدا نہیں کی جاسکتیں لیکن آپ کو کسی قدر اندازہ ہو جائے گا کہ احمدی لڑکیوں کی نشو و نما کس رنگ میں ہونی چاہئے۔انتظامات میں آپ کو کچھ نقائص بھی نظر آئیں گے لیکن اسے نظر انداز کر دیں۔اور آئندہ سال انشاء اللہ تعالیٰ مزید بہتر انتظامات ہوں گے۔وہ عورتیں، جو قید کرنے میں فراخ دل اور تعریف کرنے میں کنجوس ہوتی ہیں، وہ اپنے گھروں میں 122