تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 121
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خلاصہ خطاب فرمودہ 27 جولائی 1985ء بلچر سے اس حد تک متاثر ہوئے کہ پہلے تو بعض دوسرے مذاہب کے نمائندوں نے اپنا وقت حضور کے لیکچر کے لئے دے دیا اور پھر بھی جب لیکچر مکمل نہ ہوا تو سامعین کے اصرار پر کانفرنس کے مقررہ دنوں میں ایک دن کا اضافہ کر دیا گیا۔جو کہ بہت غیر معمولی بات تھی۔اصل بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس کتاب کو پڑھ اور سمجھ لے تو پھر اس کے لئے کسی بیرونی دباؤ کی ضرورت نہیں ہوگی ، وہ خود بخود اپنی خوشی سے اسلام کی تعلیم پر عمل کرنا شروع کر دے گا۔لہذا آپ بھی اس کتاب کا مطالعہ کریں، پھر آپ پر حقیقت حال واضح ہوگی۔جماعت احمدیہ میں عورتوں کو پردہ کی اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے کھیلوں اور مباحثوں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام صحت مند مشاغل میں حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔اور احمدی مستورات نے برقع کے ساتھ مختلف علوم میں اتنی ترقی کی کہ دنیا حیران رہ گئی۔انہوں نے ایسی کھیلوں میں بھی حصہ لیا، جنہیں عام طور پر مردوں کی کھیلیں سمجھا جاتا ہے۔لیکن یہ سب کچھ کسی کی نقل میں نہیں تھا بلکہ اسلام نے ہی عورت کو یہ حقوق دیئے ہیں۔حضرت مسیح موعود کے ظہور کے وقت حالت یہ تھی کہ ایک دفعہ جب حضور امرتسر کے ریلوے اسٹیشن پر اپنی اہلیہ، حضرت اماں جان کے ساتھ چہل قدمی اور گفتگو فرمارہے تھے تو بعض صحابہ نے اس پر تعجب اور پریشانی کا اظہار کیا کہ دوسرے لوگ کیا کہیں گے۔لیکن حضور نے فرمایا کہ اگر کوئی پوچھے تو کہ دو کہ یہ میری بیوی ہے اور بس۔نیز یہ فرمایا کہ اسلام نے عورت کو یہ حقوق دیئے ہیں، اس لئے ہمیں اس میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔اس قسم کے واقعات کے نتیجہ میں احمدیت میں ایک نئے معاشرہ نے جنم لیا، جو بظاہر مغربی تہذیب اور اسلام کا امتزاج معلوم ہوتا ہے۔لیکن در حقیقت یہ حقیقی اسلام ہے۔جو ہر پہلو سے حسین اور کامل دین ہے۔مغربی معاشرہ کا تجزیہ کیا جائے تو بہت سی چیزیں ایسی ہیں، جو اسلام سے پہلے اس معاشرہ میں نہ تھیں اور اسلام سے ہی یہ چیزیں مغربی معاشرہ نے لی ہیں۔مثلاً پہلے عورت کو طلاق لینے کا کوئی حق نہ ہوتا تھا۔اسی طرح اسلام عورت کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ گھر کے اخراجات پورا کرنے کے لئے کمانے کی ذمہ دار نہیں۔اس کے برعکس مرد ذمہ دار ہے اور عورت بچوں کی نگہداشت کی ذمہ دار ہے۔اگر چہ عورت کو کام کی اجازت ہے لیکن بچوں کی نگہداشت اس کا اولین فرض ہے۔کیونکہ اس نظام قدرت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا کہ عورت ہی اولاد پیدا کرتی ہے اور وہی اس کی پرورش کی زیادہ اہل ہے۔اس نظام قدرت کو توڑنے کے نتیجہ میں ہر آنے والی نسل، پہلی نسل سے زیادہ غیر ذمہ دار اور شفقت مادری سے محروم ہوگی اور میاں بیوی کے تعلقات کا توازن بھی مجروح ہو جائے گا۔121