تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 101

خطبہ جمعہ فرمودہ 19 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہیں، ان کو آپ نے دوبارہ دنیا میں قائم کر دیا ہے۔ایسے حسین اخلاق کا مالک انسان اس کو یہ کہا جائے کہ قوم تجھے نکال دے گی تو تعجب تو اسے ہوگا۔پس آغا ز رسالت سے یہی مقدر تھا اور اس آیت میں حضوراکرم کو مخاطب کرنے کے نتیجہ میں یہ مسئلہ ہمیں سمجھ آیا۔ورنہ اگر ساری امت کو مخاطب کیا جاتا تو ہر گز نہیں کہہ سکتے تھے کہ تبلیغ کے نتیجہ میں فساولا ز ما پیدا ہوتا ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ مطلب صرف اتنا ہے کہ لوگ غلطیاں کریں گے، غلط طریق پر تبلیغیں کریں گے، دل آزاریاں کریں گے ، اس لیے فساد پھیلے گا۔تو واحد کے صیغہ میں مخاطب کرنے میں ایک اور بڑا عظیم الشان مضمون ہاتھ آگیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کے باوجود، باوجود اس کے کہ آپ سے زیادہ پیار اور محبت اور شفقت اور رحمت اور حکمت کے ساتھ اور کوئی تبلیغ نہیں کر سکتا، پھر بھی دنیا آپ کی مخالف ہو جائے گی اور آپ کی ایذارسانی کی کوشش کرے گی۔ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر قسم کی غلطی۔پاک تھے، اس لیے لازم فریق ثانی پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔فساد تو ہو گا لیکن فساد کے ذمہ داروہ ہیں، جو دکھ پہنچانے کے لیے مظالم کی راہ سے اور تعدی کی راہ سے اور جبر کی راہ سے خدا کے پیغام کو روکنے کی کوشش کرنے والے ہوں گے۔اس لئے جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے، ہر احمدی کو یہ دونکات خوب ذہن نشین کر لینے چاہئیں۔اول یہ کے تبلیغ کوئی طوعی چندہ نہیں ہے، کوئی نفل نہیں ہے کہ نہ بھی ادا کریں گے تو آ روحانی شخصیت مکمل ہو جائے گی۔فریضہ ہے اور ایسی شدت کے ساتھ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تو نے رسالت کو ہی ضائع کرد یا اگر تبلیغ نہ کی تو۔آپ کی امت بھی جوابدہ ہے۔ہم میں سے ہر ایک جوابدہ ہے۔پیغام رسانی لازماً ایک ایسا فریضہ ہے، جس سے کسی وقت انسان غافل ہو نہیں سکتا۔اجازت نہیں ہے کہ غافل رہے۔اور دوسری بات یہ کہ آپ جو چاہیں کریں، جتنی چاہیں حکمت سے کام لیں اور حکمت سے کام لینا پڑے گا، نرمی کریں اور دکھ رہی سے بچیں اور پیار اور محبت کو شیوہ بنا ئیں اور ایثار سے کام لیں لیکن یہ نہ سوچ بیٹھیں کہ اس کی وجہ سے آپ کی مخالفت نہیں ہوگی۔یہ تو خدا تعالیٰ نے پہلے سے متنبہ فرما دیا ہے۔ابھی آپ پیدا ہی نہیں ہوئے تھے، ابھی انسان پیدا نہیں ہوا تھا، ابھی کا ئنات وجود میں نہیں آئی تھی ، اس وقت ایک مکالمے کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے بنی نوع انسان کو متنبہ فرما دیا کہ جب بھی خدا کی طرف سے رسول آئیں گے تو فساد ضرور بر پا ہوں گے۔لیکن فساد کی ذمہ داری کلیۂ فریق مخالف پر ہوگی ، ہمارے رسولوں پر نہیں ہوگی۔101