تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 241

تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطاب فرمودہ 07 نومبر 1982ء ہیں۔فرینچ سپیلنگ افریقہ (Frech Speaking Africa) یعنی فرانسیسی بولنے والے افریقی ممالک میں کمزوری ہے تو وہاں داخل ہو سکتے ہیں۔اٹالین سپیلنگ افریقہ (Italian Speaking Africa) یعنی اٹالین بولنے والے افریقی علاقوں میں کمی ہے تو وہاں داخل ہو سکتے ہیں۔اصولی اور عمومی منصوبہ بندی کرنا تحر یک جدید کا کام ہوگا۔پھر تفصیلی منصوبہ وہ ملک تیار کرے گا۔پھر وہ تحریک جدید کو بھیجے گا اور اس کو منظور کروانے کے بعد ایک اجتماعی مرکزی منصو بہ قائم کرے گا۔اس سکیم کے تحت ( سوسالہ جو بلی منانے کے لئے ہمارے پاس صرف پانچ ، چھ سال رہ گئے ہیں ) اگر تین مہینے کے اندراندر ہم چھلانگ مارنے کے لئے تیار ہو جائیں اور دعائیں کرتے رہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے توقع ہے کہ ہر سال ہمیں نئے نئے پھل ملنے شروع ہو جائیں گے، انشاء اللہ تعالی۔اس سکیم میں پاکستان کا ایک حصہ دعا کا ہے۔بڑی کثرت کے ساتھ دعائیں کریں اور بڑی با قاعدگی کے ساتھ دعائیں کریں۔اتنا گہر اثر ہوتا ہے دعا کا اور اتنا حیرت انگیز اور معجزانہ اثر ہوتا ہے کہ انسان تصور میں بھی نہیں لاسکتا۔اس سفر کے دوران کئی لحاظ سے مجھ پر بہت بوجھ تھا۔ایک کے بعد دوسری مجلس میں جانا پڑتا تھا اور خیالات کو مجتمع کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا تھا۔یہاں تک کہ بعض دفعہ بڑے بڑے اہم خطابات کرنے کے لئے چند منٹ بھی میسر نہیں آتے تھے۔ادھر ملاقاتیں ختم ہوئیں ، ادھر جا کر خطاب کیا۔میرے پاس تو صرف یہی دعا کا حربہ تھا اور میں سمجھتا تھا کہ یہ اتنا بڑا حربہ ہے کہ اس کے بعد مجھے فکر ہی نہیں رہتی تھی۔میں دعا کرتا تھا کہ اللہ میاں! تیرے کام کے لئے نکلا ہوں، تو نے ہی سکھانا ہے۔میری اپنی حیثیت ہی کوئی نہیں۔وقت ملتا بھی اور توفیق نہ ملتی تو بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔اس لئے اپنے فضل سے آپ ہی دماغ میں ڈال ، آپ ہی جواب سکھا، آپ ہی مضمون روشن فرما اور توفیق عطا فرما کہ ایسی زبان میں ادا کروں کہ لوگ سمجھ سکیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کا فضل ہوا اور ایسی مجالس میں بھی، جہاں بالکل اچانک خطاب کرنے کا موقع ملا، وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے پاک تبدیلی نظر آئی۔چنانچہ ایک ایسی ہی مجلس میں ایک انگریز آیا ہوا تھا، جو بالکل نیا تھا اور اس کو مذہب میں کوئی خاص دلچسپی بھی نہیں تھی۔ایک دوست اسے پکڑ کر لے آئے۔اس نے صرف ایک سوال کیا اور اس سوال کا جو جواب خدا نے مجھے سکھایا، وہ میں نے دے دیا۔چند دن ہوئے، اس کا خط آیا ہے کہ میں نے ایک ہی سوال کیا تھا اور اس کے جواب سے میرے دل پر اتنا گہرا اثر پڑا ہے کہ مجھے جواب سنتے سنتے یہ یقین ہو گیا تھا کہ یہ بچے لوگ ہیں۔اس لئے آپ میرے لئے دعا کریں، اللہ تعالیٰ مجھے قبول حق کی توفیق عطا فرمائے۔241