تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 81

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک جلد اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 08 اکتوبر 1982ء بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آسائش کی زندگی گزار رہا ہے۔انہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق آسائش کی زندگی کی تعریف ہی معلوم نہیں ہوتی۔وہ نہیں جانتے کہ اسلام میں کیا غلط ہے اور کیا صیح ؟ اگر آ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے بہترین چیزوں سے لطف اندوز ہوں ، ہاں جب مالی قربانی کا تقاضا کیا جائے تو آپ قربانی کرنے والوں میں آگے آگے ہوں تو پھر جو کچھ باقی بچتا ہے، وہ آپ کا ہے اور آپ جہاں چاہیں، اسے خرچ کریں۔اگر آپ عمدہ اور آرام دہ زندگی گزاریں تو یہ قطعا منع نہیں۔جو ممانعت ہے، وہ قرآن کریم میں کھول کر بیان کر دی گئی ہے۔اور اس کے بعد کسی کوحق نہیں کہ اس چیز کونا جائز قرار دے دے، جسے قرآن کریم نے ناجائز قرار نہیں دیا۔اسی کی طرف اس آیت میں ذکر ہے۔قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ الَّتِى اَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِمَةِ (الاعراف: 33) کہہ دے کہ کس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کے بندوں پر حرام قرار دیا ہے، جو ان کے لئے اس دنیا میں اور آخرت میں تخلیق کی گئی ہیں؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دنیا میں بھی یہ مؤمنین کے لئے ہیں اور آخرت میں تو صرف انہیں کے لئے مخصوص ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے زندگی میں عمدہ چیزیں استعمال کرنے کے لئے تخلیق کی ہیں، نہ کہ سچے مومن انہیں رد کر دیں۔چنانچہ اگر وہ ان اشیاء کو استعمال کریں تو کوئی ممانعت نہیں۔بشرطیکہ وہ اسلامی تعلیمات کی حدود میں زندگی گزارنے والے ہوں۔اور یہ بھی کہ یہ طرز زندگی ان کی مالی قربانیوں میں روک نہ بنے۔جب ہم تنگدستی سے زندگی گزارنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ اسلام میں آرام دہ زندگی گزارنے کی ممانعت ہے۔اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ بچت کر کے اسلام کی خدمت میں پیش کریں۔اسلام میں اسے نفل کہا گیا ہے۔یعنی فرائض کی ادائیگی سے زائد ا گر آپ اپنی مرضی سے کچھ خدمت کریں تو وہ فضل کے زمرے میں آتی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص خود کو فرائض تک ہی محدود رکھے تو کسی شخص کو اس پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ ایک آنے والے نے اسلام کے بارہ میں دریافت کیا۔آپ نے اسے اسلام کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کروا دیا۔اور پھر بتایا کہ اس کے علاوہ جو بھی اچھا کام وہ کرے گا، وہ نوافل کے زمرے میں آئے گا۔اس نے کہا کہ میں وہی کروں گا، جو مجھ پر فرض ہے، اس سے زیادہ نہیں تو کیا میں بخشا جاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں وہ تمہارے لئے کفایت کرے گا۔( بخاری کتاب الایمان باب الزكوة من الاسلام ) 81