تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 886
اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم جون 1984ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم دعا بھی کریں، اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔اور اسی طرح امریکہ کے ایک نوجوان ڈاکٹر نے باوجود اس کے کہ امریکہ کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا تھا، پچاس ہزار ڈالر کا وعدہ کیا ہے، جو وہ عنقریب بھجوا دیں گے، انشا اللہ تعالٰی۔یہ وعدے تو ہیں عموماً موٹی موٹی رقموں کے۔لیکن جماعت کے دونوں کنارے اللہ تعالیٰ نے قربانی اور اخلاق کے ساتھ مزین کر رکھے ہیں۔ایک طرف ایسے ایسے مخلص افراد ہیں، جو لکھوکھا کے وعدے کر رہے ہیں اور دوسرے طرف ایسے غرباء ہیں، جن کے پاس سو پاؤنڈ جمع تھے یا دو سو پاؤنڈ جمع تھے، کسی ضرورت کے لئے رکھے ہوئے تھے ، بلاتر دو انہوں نے وہ پیش کر دیتے ہیں۔اور پھر وہ نظارہ نظر آرہا ہے، جو تحریک جدید کے آغاز پر مستورات کا میں بچپن میں اپنے گھر میں دیکھا کرتا تھا۔عورتیں بچیاں کسی نے چوڑی پکڑی ہوئی ، کسی نے کڑا پکڑا ہوا، کسی نے بندے اور بڑے عجیب جذبے، جوش کے ساتھ حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتی تھیں کہ ہماری یہ قربانی قبول فرمائیں۔انگلستان کی جماعت میں بھی بکثرت ایسی مستورات ہیں، جنہوں نے بڑے ذوق و شوق کے ساتھ اپنے ہاتھوں کے کنگن اتار دیتے ، اپنی چوڑیاں اتار دیں، اپنے بندے اتار دیئے، اپنے سر کے زیور اتار دیئے۔اور بعضوں نے تو ایسی پیاری ادا کے ساتھ بھیجوایا ہے کہ بچیوں کی انگوٹھیاں اور ان کے بندے چھوٹے چھوٹے ہر ایک کا نام لکھ کر سجا کر جس طرح جاہل لوگ دنیا میں بکرے سجاتے ہیں، وہ تو اپنی ریاء کی خاطر سجاتے ہیں لیکن خدا کے بندے اپنے تحفوں کو خدا کے حضور سجا کے پیش کرتے ہیں۔کسی ریاء کی خاطر نہیں بلکہ محض للہی محبت میں۔تو بڑے پیار میں ان زیوروں کو سجا کر بھجوایا گیا۔بعض نوجوان جوڑوں نے اس قربانی کا مظاہرہ کیا۔خصوصاً ان کی بیویاں تو غیر معمولی طور پر دعاؤں کی مستحق ہیں کہ خاوند نے اپنی جگہ چندے دیئے اور بیوی کی تسکین نہیں ملی۔اس نے کہا کہ جب تک میں زیور نہیں دوں گی، مجھے تو چین نہیں ملے گا۔چنانچہ باوجود اس کے کہ خاوند نے سارے خاندان کو شامل کیا ہوا تھا ، انہوں نے پھر بھی اپنا زیور بھجوادیا۔ایک بچی نے معلوم ہوتا ہے کہ اپنا وہ سیٹ بھی بھجوا دیا ہے، جو اس کو بری میں ملا تھا۔اور وہ بھی بھجوا دیا، جو جہیز میں ملا تھا۔کیونکہ دو مکمل سیٹ ہیں اور بڑی عاجزی کے ساتھ یہ عرض کرتے ہوئے کہ اس کو قبول فرما ئیں اور میرے دل کی تسکین کا سامان کریں۔تو عجیب دنیا ہے یہ۔کچھ لوگ ہیں ، جو ناحق لوگوں کے چھین کر اپنے ہاتھوں میں پہنتے ہیں اور لوگوں کی دولتوں کو اپنی گردنوں کے کڑے بنا دیتے ہیں، جو آخر طوق بننے والے ہیں۔لیکن ایسے بھی لوگ دنیا میں ہیں اور کچھ ایسے ہیں، جن کو اپنے ہاتھوں کے زیور برے لگنے لگتے ہیں، ان سے نفرت ہونے لگتی ہے۔وہ اپنے گلوں کے ہارا تار دیتے ہیں خدا کی خاطر اور اس بات ا میں ان کو تسکین ملتی ہے کہ ہم خالی ہو گئے ہیں، اپنے رب کے حضور۔886