تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 789
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد اقتباس از خطابه فرموده 27 دسمبر 1983ء تو یہ زیور واپس نہیں مل سکتا۔صرف ایک ترکیب ہے کہ جومیرا بچا ہوا ہے، وہ میں خدا کی راہ میں دے دوں۔پھر اللہ اس کی واپسی کا انتظام کر دے گا۔چنانچہ وہ زیور لے کر دوڑی دوڑی ربوہ آئیں اور مجھے کہا کہ اس کو صد سالہ جوبلی میں میری طرف سے لے لیں۔اس کے سوارستہ ہی کوئی نہیں کہ میرا از یورواپس ملے۔چنانچہ ایک ہفتہ کے اندر اندر اس کا خط آیا کہ کچھ سمجھ نہیں آتی کس طرح ہوا لیکن وہ ڈاکو پکڑے گئے اور ہمار از یور بھی ان سے نکل آیا ہے۔پس یہ ہے، احمدیت کی شان۔یہ ہے، وہ خدا، جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہوا۔اور آپ کے بعد آپ کے سب سے کامل غلام مسیح موعود علیہ السلام پر ظاہر ہوا تھا۔آپ کی تیار کردہ یہ جماعت ہے، آپ ہر وقت خدا کے فضلوں کے سایہ تلے آگے بڑھتے ہیں۔کوئی خوف نہ کریں، غربت کا۔کوئی خوف نہ کریں، جیبیں خالی ہونے کا۔کیونکہ خدا کے خزانے نہ ختم ہونے والے خزانے ہیں۔اس کی رحمت کا سایہ ہمارے سروں پر دراز ہے اور ہمارے آگے آگے چلتا ہے اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔اس سایہ سے تیز تر آپ نہیں چل سکتے۔ہمیشہ وہ سایہ آگے بڑھتا رہے گا۔اس لئے آپ وہ جماعت ہیں، جن کو کوئی خوف نہیں اور کوئی حزن نہیں ہے۔خدا کی خاطر قربانیوں میں آگے بڑھیں اور خدا کے فضلوں کی بارشوں کو نازل ہوتا دیکھیں۔مجھے تو ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے، جو جماعت پر خدا کے فضلوں کو دیکھ کر ان کی راہ میں روکیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔زمین پر بہنے والے پانی کے سامنے تو کچھ دیر کے لئے روک لگائی جا سکتی ہے لیکن وہاں بھی لمبے عرصہ کے لئے روک نہیں ڈالی جاسکتی۔وہ رکے ہوئے پانی چڑھ جایا کرتے ہیں اور ہر بند کو توڑ دیا کرتے ہیں۔لیکن وہ بارش جو آسمان سے نازل ہو رہی ہو، اس کو کبھی کبھی چھتوں نے روکا ہے۔اور وہ بارش جو مشرق تا مغرب محیط ہو چکی ہو، جو شمال میں بھی برس رہی ہو اور جنوب میں بھی برس رہی ہو، وہ ساری دنیا میں اللہ کے فضلوں کے قطرے بن کر جماعت پر نازل ہورہی ہے۔کون ہے، جس کی چھتری اس فضل کو روک دے گی ؟ کون ہے، جس کی چھت اس کی راہ میں حائل ہو جائے گی ؟ اس لئے ہے خوف ہو کر آپ آگے بڑھتے چلے جائیں۔دعائیں کریں، ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے، ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے، ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے، اس نے نہ پہلے کبھی ہمیں چھوڑا ہے، نہ آئندہ بھی ہمیں پیچھے چھوڑے گا“۔( مطبوعه روز نامہ افضل 15 اپریل 1984ء) 789