تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 788 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 788

اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک میں نہیں آتی۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ نظام کی طرف سے کوئی سنتی دکھائی گئی ہے۔ورنہ جماعت تو ایسی نہیں ہے کہ مالی قربانی میں اس طرح پیچھے رہ جائے۔آپ اندازہ کریں کہ صرف اس سال جماعت احمد یہ بیرون نے چندہ عام، چندہ وصیت اور چندہ تحریک جدید میں دس کروڑ روپے ادا کئے ہیں۔اور گزشتہ سال کے مقابل پر دگنی رقم ادا کی ہے۔تو جماعت احمد یہ اخلاص میں اتنی عظیم الشان ترقی کر رہی ہے، اس پر بدظنی کا کسی کو حق ہی نہیں ہے کہ پندرہ سال میں پھیلے ہوئے دس کروڑ کے وعدے سے وہ بے توجہی کرتی۔غالبا یہی بات ہے کہ امراء یا مشنری انچارج بعض دفعہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے ایک تحریک پر زور دیا تو دوسری تحریک سے پیچھے نہ رہ جائیں۔وہ لازمی چندہ جات کی طرف توجہ دیتے رہے ہیں اور اس طرف توجہ نہیں دی۔تو بے دھڑک اور بے خوف ہو کر توجہ دیں، پیسے مہیا کرنا ان کا کام ہی نہیں ہے۔وہ اللہ کا کام ہے۔وسعتیں عطا کرنا، ہمارے خدا کے ہاتھ میں ہے، لازم وہ مہیا فرمادے گا۔اس لئے میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ان کے منتظمین ست ہیں تو وہ نہ ستی دکھا ئیں اور جلد از جلد اس کی ادائیگی کی طرف توجہ کریں۔اس سلسلہ میں بھی بہت ہی دلچسپ واقعات موصول ہوتے رہتے ہیں۔چنانچہ پچھلے سال جب میں نے تحریک کی کہ جماعت اس میں پیچھے رہ گئی ہے تو اس کثرت کے ساتھ احمدی خواتین نے قربانی کے نمونے دکھائے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔پیچھے پڑ کر منتیں کر کر کے زیوراتار کر پھینکے کہ یہ لے لیں اور ہمارا چندہ پورا کریں اور معذرتیں کیں۔صوبہ سندھ ” نواب شاہ کی ایک خاتون ہیں، انہوں نے لکھا ہے کہ افسوس ہے، میں بالکل بھول گئی تھی ، اس طرف توجہ نہیں تھی۔میں بہت ہی شرمندہ ہوں۔پانچ ہزار تو نفد بجوارہی ہوں ، جو میرے پاس کل سرمایہ ہے اور باقی زیور بیچتے ہی میں انشاء اللہ تعالیٰ سارا ادا کر دوں گی۔اس ضمن میں ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ احمدی خاتون کی ذہانت کا بھی ہے اور یہ ایسا واقعہ ہے، جو احمدیت سے باہر ہو ہی نہیں سکتا۔یہ خاص احمدیت کی شان کا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں اس قسم کے واقعات رونما فرمارہا ہے۔ضلع شیخوپورہ کی ایک خاتون اپنے خاوند کے ساتھ موٹر میں اپنے گاؤں کی طرف آرہی تھی کہ رستہ میں کار کو ڈاکوؤں نے روک لیا۔اس سے پہلے وہ کئی بسیں اور کاریں لوٹ چکے تھے۔انہوں نے جلدی سے ایک آدھ چیز یعنی زیورا تار کر قدموں میں نیچے پھینک دیئے لیکن اتنی دیر میں ڈا کو نظر ڈال چکے تھے۔انہوں نے کہا: ہر گز کوئی حرکت نہیں کرنی ، سار از یور دے دو۔وہ سارا زیوران کا لوٹ کر چل پڑے۔دیکھئے ! دیکھئے ایہ ترکیب احمدی دماغ کے سوا کسی کو آہی نہیں سکتی۔انہوں نے خاوند سے کہا کہ ڈاکوؤں سے 788