تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 784 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 784

اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1983ء تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم گفتگو نشر کرنے شروع کر دیئے ہیں۔اب کینیڈا کی طاقت کا ٹیلیویژن کا نظام تو جماعت قائم نہیں کر سکتی تھی۔لیکن خدا کے فضل سے وہاں ہر مہینے جماعت احمدیہ کے مشنری انچارج کو وقت دیا جاتا ہے۔وہ اسلام پر گفتہ کرتے ہیں۔امریکہ میں بھی خدا کے فضل سے بہت سے ایسے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔خصوصاً ہمارے - ڈاکٹر مظفر کی شہادت کے بعد تو اس کثرت سے ریڈیو اور ٹیلیویژن پر جماعت کا پیغام پھیلا ہے کہ اربوں روپیہ بھی آپ خرچ کرتے تو وہ نہیں کر سکتے تھے۔بینڈل اسٹیٹ،اونڈ واسٹیٹ ، کالابار، سورینام، لائبیریا، کینیا، سیرالیون، گھانا ان سب میں ریڈیو اور ٹیلیویژن کا جماعت کو تعاون حاصل ہے۔اور کالا بار سے تو با قاعدہ ہمارے مبلغ کا خطبہ ٹیلی کاسٹ ہوتا ہے۔کینیڈا میں سات پروگرام نصف نصف گھنٹہ کے جماعت کو ملتے ہیں۔امریکہ میں سات پروگرام دیئے گئے، جن میں سے چار اتنے مقبول ہوئے کہ انہیں 16 مرتبہ دہرایا گیا۔اور دو پروگراموں کو چار چار مرتبہ دہرایا گیا۔نجی میں بھی باقاعدہ ہر تہوار، ہر موقع پر جماعت احمدیہ کو نمائندگی کا موقع دیا جاتا ہے۔سپین میں سات ریڈیو اسٹیشنوں نے ہمارے مشنری کے انٹرویو نشر کیے اور بڑے لیے تفصیلی تبلیغی پروگرام انہوں نے خود نشر کئے۔بہر حال جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی تو کوئی حد نہیں ہے، کوئی انتہا نہیں ہے۔کس کس چیز کو شمار کریں گے، the فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بْنِ کن کن کا انسان انکار کر سکتا ہے۔وکالت تصنیف بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھے کام کر رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی کتاب ست بچن کا انگریزی ترجمہ پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب کر رہے ہیں ، وہ شائع کرنے کا پروگرام ہے۔اور گورکھی ترجمہ گیانی عباداللہ صاحب نے مکمل کر لیا ہے، وہ بھی شائع کرایا جائے گا۔اسلامی اصول کی فلاسفی چینی زبان میں اس پر نظر ثانی کی جاری ہے۔اس کے علاوہ امام مہدی کے ظہور سے متعلق ایک بہت اچھا مضمون عثمان چینی صاحب نے چینی زبان میں لکھا ہے۔اس کے علاوہ بھی وہ لٹریچر تیار کریں گے۔اب ان کو اس کام پر وقف کر دیا گیا ہے۔خطبات کے انگریزی ترجمے تمام دنیا میں تقسیم کرنے کا انتظام تحریک جدید کر رہی ہے۔اس سے پہلے مکرم محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب انگلستان میں ہر خطبہ کا ترجمہ فورا کر دیتے تھے۔اور برادرم انور احمد صاحب کاہلوں نے اپنے ذمہ لیا ہوا تھا کہ وہ اس کو آگے پھر مختلف ممالک میں مشتہر کر دیتے تھے۔چوہدری صاحب تو اب یہاں تشریف لے آئے ہیں، اللہ تعالیٰ کسی اور کو تو فیق عطا فرمائے گا“۔784