تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 756
خلاصہ خطاب فرموده 24 نومبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اس کی تفصیل بتاتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ دار الحکومت میں واقع یو نیورسٹی آف کینبرا میں میرا ایک لیکچر اسلام کی امتیازی خصوصیات کے موضوع پر ہوا اور اللہ تعالیٰ نے علم کے اس مرکز میں اسلام کا پیغام بہت عمدگی سے پہنچانے کی توفیق دی۔وہاں پر بھی شدید مخالفت تھی۔یونیورسٹی کے اہل کاروں کو دھمکیاں دی گئیں اور یو نیورسٹی کے اہلکار وائس چانسلر کے پاس گئے کہ یہ تقریب منسوخ کر دیں۔مگر وائس چانسلر نے ہمت کی اور دلیری سے کہا کہ یہ تقریب ہرگز منسوخ نہ ہوگی۔اسی طرح ایک اور جگہ ایک بولنگ کلب میں ایک احمدی دوست نے ایک دعوت دی، جس میں ایک سو آسٹریلین شامل ہوئے۔بڑے طویل سوال وجواب کی محفل ہوئی اور حاضرین کے دلوں کی کیفیت ایک ہی مجلس میں اتنی بدل گئی کہ مجھے یوں لگتا تھا کہ ایک طرف دنیا والے مخالفت میں زور لگار ہے ہیں اور دوسری طرف خدا کے فرشتے لوگوں کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کر رہے ہیں۔آسٹریلیا جیسے ملک میں کسی مجلس میں لوگ کھلم کھلا اٹھ کر اسلام کی تائید کر نا شروع کر دیں تو یہ ایک عجیب بات ہے اور صدر مجلس اٹھ کر یہ کہے کہ آپ نے جتنی باتیں کہی ہیں ، ان سب سے مجھے سو فیصدی اتفاق ہے۔حضور نے فرمایا:۔عورت کے اسلام میں کردار کے متعلق ہمیشہ سوالات پوچھے گئے اور ایسی جگہ پر جہاں میری بیوی اور بھانجی بھی ایک طرف برقع میں لپٹی ہوئی یہ باتیں سن رہی تھیں۔ایسی تقریب میں خود وہاں کی عورتوں کا اٹھ کر عورتوں کے بارے میں اسلام کی تعلیم کی تائید کرنا، خدا تعالیٰ کی تائید کا ایک حیرت انگیز نشان تھا۔فرمایا کہ اس ملک میں ریڈیو سے میرے دو انٹر ویو نشر کئے گئے۔ایک براہ راست رواں پروگرام کو روک کر بذریعہ ٹیلیفون انٹرویو تھا، دوسرا آسٹریلیا ریڈیو کے اردو پروگرام میں اردو زبان میں ایک انٹرویو تھا“۔حضور نے فرمایا:۔یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم شان تھی ، ایک طرف لاکھوں روپے خرچ کر کے پاکستان اور ہندستان کے رہنے والے لوگوں کے دلوں میں جماعت احمدیہ کے بارے میں بدظنیاں پھیلائی جارہی تھیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ریڈیو پر انہی لوگوں کے خاص پروگرام میں میرا انٹرو یونٹر کروارہا تھا۔حضور نے مزید فرمایا کہ "آسٹریلیا کے مذہبی امور کے ماہر صحافیوں نے خاص طور پر ہمارے بارے میں، ہماری تائید میں لکھا“۔756