تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 751 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 751

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم پیغام بر شہادت مکرم ڈاکٹر مظفر احمد صاحب تبلیغ اسلام کی جوت کو سمجھنے نہیں دینا پیغام بنام جماعت احمد یہ امریکہ بر شہادت مکرم ڈاکٹر مظفر احمد صاحب اے ڈیٹرائٹ اور امریکہ کے دوسرے شہروں میں بسنے والے احمد یو! اور اے مشرق و مغرب میں آبا د اسلام کے جاں شارو !! اس عارضی غم سے مضمحل نہیں ہوتا کہ یہ ان گنت خوشیوں کا پیش خیمہ بننے والا ہے۔اس شہید کو مردہ نہ کہیں بلکہ وہ زندہ ہے۔اور اس رستہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہو، جس پر چلتے ہوئے وہ مرد صادق پر بہت آگے بڑھ گیا۔تمہارے قدم نہ ڈگمگائیں، تمہارے ارادے متزلزل نہ ہوں۔دیکھو تم نے خوب سوچ سمجھ کر اور کامل معرفت اور یقین کے ساتھ اپنے لئے راستی کی وہ راہ اختیار کی ہے، جس پر صالحیت کی منزل کے بعد ایک شہادت کی منزل بھی آتی ہے۔اسے خوف وہر اس کی منزل نہ بناؤ۔یہ تو ایک اعلیٰ اور ارفع انعام کی منزل ہے، جس پر پہنچنے کے لئے لاکھوں ترستے ہوئے مر گئے اور لاکھوں ترستے رہیں گے۔اور خالد بن ولید کا وہ وقت یاد کرو، جب بستر مرگ پر روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی۔اور ایک عیادت کرنے والے نے تعجب سے پوچھا کہ اے اللہ کی تلوار ! تو جو میدان جہاد کی ان کڑی اور مہیب منزلوں میں بے خوف اور بے نیام رہا، جہاں بڑے بڑے دلاوروں کے پتے پانی ہوتے تھے، آج تو موت سے اتنا خوف زدہ کیوں ہے؟ تجھے یہ بزدلی زیب نہیں دیتی۔خالد نے اسے جواب دیا کہ نہیں نہیں ، خالد بن ولید موت سے خائف نہیں بلکہ اس غم سے نڈھال ہے کہ راہ خدا میں شہادت کی سعادت نہ پاسکا۔دیکھو! یہ وہی خالد تھا، جو ہر میدان جہاد میں یہ تمنا لے کر گیا کہ کاش میں بھی ان خوش نصیبوں میں داخل ہو جاؤں ، جو اللہ کی راہ میں شہید کئے جاتے ہیں۔یہ تمنا لئے ہوئے وہ ہر خطرے کے بھنور میں کود پڑا اور ہر اس گھمبیر مقام پر پہنچا، جہاں سرتن سے جدا کئے جارہے تھے اور گردنیں کاٹی جارہی تھیں اور سینے برمائے جارہے تھے اور اعضاء بدن کے ٹکڑے کئے جارہے تھے۔لیکن ہر ایسے مقام سے وہ غازی بن کر لوٹا اور شہادت کا جام نہ پی سکا۔پس بستر مرگ پر اس سوال کرنے والے کو خالد نے اپنے بدن کے وہ داغ دکھائے ، جو میدان جہاد میں کھائے جانے والے زخموں نے پیچھے چھوڑے تھے۔اپنے بدن کا کپڑا اٹھایا اور اپنا پیٹ دکھایا اور اپنی چھاتی 751