تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 725 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 725

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطاب فرموده 30اکتوبر 1983ء لوگوں کی اولاد ہیں اور صاحب عزم سرداروں کے غلام ہیں۔اس لئے عزم اور ہمت کی اس چٹان پر قائم ہیں، جس کو دنیا کی کوئی طاقت تو ڑ نہیں سکتی۔چنانچہ یہ تو ایک نمونہ ہے ورنہ ہم تو دن رات اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کے احسانات کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ دلوں میں پاک تبدیلیاں فرماتا رہا، اپنوں کے دلوں میں بھی اور غیروں کے دلوں میں بھی۔وہ ایک عجیب پر لطف نظارہ تھا۔ان دنوں خدا کے فضلوں کو دیکھ کر جو لطف آتا تھا، دنیا کا کوئی سیاح اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ چیز کیا ہے؟ اور خدا کے لطفوں کی سیر کا کیا مزہ ہے؟ باہر جانے والے براعظم آسٹریلیا کی پتہ نہیں کہاں کہاں کی سیریں کرتے ہیں؟ ہم نے تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کی سیر کی ہے اور خوب پیٹ بھر کر سیر کی ہے۔پنجابی میں کہتے ہیں، اللہ نے رجا یا اپنے فضلوں سے۔وہی ہماری کیفیت ہے۔ایسی حیرت انگیز باتیں ہوئی ہیں کہ صاف پتہ چلتا تھا، خدا کی تقدیر کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔اب مثلاً جن پچاس ہزار آدمیوں کو جماعت کے خلاف زہر یلا لٹریچر بھجوایا گیا اور نہایت ہی ظالمانہ جھوٹ بولے گئے اور لوگوں کو جماعت احمدیہ سے بدظن کرنے کی کوشش کی گئی ، اس کا ازالہ کرنے کے لئے نہ تو ہمارے پاس لوگوں کے پتہ جات تھے، نہ ہمیں یہ طاقت تھی کہ ان پچاس ہزار آدمیوں کو خط لکھیں، نہ اس کام کے لئے وسائل موجود تھے۔اگر ہوتے بھی تب بھی ہم یہ کام نہیں کر سکتے تھے۔اب اس کا کیا حل تھا؟ سوائے دعا کے اور کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔چنانچہ ہم نے یہی دعا کی کہ اے اللہ! تو اپنے فضل سے ہی سامان پیدا فرما تا کہ ہماری زبان میں بھی یہ لوگ احمدیت کے متعلق کچھ سن سکیں۔چنانچہ ہمارے ایک احمدی دوست نے جو غیر مبائعین میں سے آئے ہیں اور بڑے اچھے اور نیک فطرت آدمی ہیں، انہوں نے اس دوران جہاں جماعت کے بہت سے اچھے کام کئے ، وہاں ایک ریڈیو اسٹیشن سے بھی رابطہ پیدا کیا۔چنانچہ اس ریڈیو اسٹیشن کے نمائندہ نے انٹرویو کے لئے حامی بھر لی۔وہ ایک ایسار یڈیو اسٹیشن ہے، جس کے پروگرام کو سارے پاکستانی اور ہندوستانی شوق سے سنتے ہیں۔کیونکہ اس میں فلمی گانے بھی ہوتے ہیں اور پھر اچانک بڑے دلچسپ انٹرویو بھی آجاتے ہیں۔یعنی یہ نہیں بتایا جاتا کہ کیا ہونے والا ہے؟ بس گانا سنتے سنتے اچانک اعلان ہوتا ہے کہ اب سینے ایک بڑا دلچسپ انٹر ویو اور وہ سارے سننے والے اس کو سنتے ہیں۔چنانچہ ریڈیو آسٹریلیا کی اس اردو سروس کے نمائندہ ، جو ایک مسلمان ہی تھے ، وہ انٹرویو لینے کے لئے تشریف لائے اور اس کے لئے انہوں نے بڑی تیاری کی ہوئی تھی۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کے بعد جو جھوٹے مدعیان پیدا ہوئے ، ان سب کے نام 725