تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 706 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 706

خطاب فرمودہ 23 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی وسعت ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم دنیا میں انقلاب پیدا کرنے کے قابل بننے کی کوشش کریں۔حضور نے فرمایا:۔میں نے محسوس کیا ہے کہ نوجوانوں میں عبادت کی طرف ابھی پوری توجہ نہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ آپ نماز با جماعت کو بڑے زور کے ساتھ قائم کریں۔نماز میں اللہ کے تعلق کو ہمیشہ یاد رکھیں۔جہاں جہاں احمدی خدا تعالیٰ کا سب سے زیادہ عبادت گزار ہوگا، وہاں ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ دنیا کے مقابل پر عبادت کرنے والے کو ہلاک کر دے۔دنیا کے ہاتھ میں سب طاقتیں اور وسائل ہیں ، صرف ایک چیز یعنی عبادت نہیں ہے۔اگر عبادت آپ کے اندر صحیح طور پر قائم ہو جائے تو دنیا آپ کو کبھی شکست نہیں دے سکتی۔دوسری بات حضور نے یہ بیان فرمائی کہ بنی نوع انسان کی گہری ہمدردی اپنے اندر پیدا کریں۔آپ کے خلاف کی جانے والی نفرتیں، جو بھی روپ دھار لیں، وہ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتیں۔بشرطیکہ آپ رحمتہ للعالمین کی غلامی کے تقاضوں کو پورا کرنے کا عزم کرلیں اور اپنے جذبہ رحمت پر آنچ نہ آنے دیں۔ہر نفرت کا جواب آپ کو محبت سے دینا ہوگا۔آج دنیا کو خدا کی محبت کی ضرورت ہے۔عبادت اور بنی نوع سے محبت کا مطلب خدا تعالی سے تعلق قائم کرنا ہے اور یہی تعلق ہر کامیابی کا ذریعہ ہے۔حضور نے فرمایا:۔66 آج یورپ اور امریکہ میں مغربیت کی لے پر شیطان بنسی بجارہا ہے۔اور یورپ کی ایک پرانی کہانی کے بچوں کی طرح خدا کے بندے اپنی تباہی سے بے پرواہ ہو کر ہلاکتوں کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں۔اس جادو کا مقابلہ کس طرح ہوگا؟ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہا نا بتایا گیا کہ ایک نبی کرشن تھا، بنسی بجانے والا۔اس کے نام پر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کو بھی بنسی بجانے والا کرشن کن بیا قرار دیا گیا ہے۔اور خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ یہ بنسی جیتے گی اور شیطان کی بنسی اس کے مقابل پر ٹوٹ پھوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی۔حضور نے با آواز بلند فرمایا:۔اے احمدی نوجوانو! اٹھو اور دنیا میں پھیل جاؤ۔خدا کی محبت کی بنسی بجاؤ، جو سیح موعود نے تمہیں عطا کی ہے۔اب شیطان کی بنسی کے دن گنے جاچکے ہیں۔خدا کی بنسی ، وہ ہنسی ہے، جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے:۔706