تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 695 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 695

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 23 اکتوبر 1983ء جذ بات کو واقعات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے خطاب فرمودہ 23 اکتوبر 1983ء مشرق بعید کے دورہ سے کامیاب مراجعت پر حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ کے اعزاز میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرف سے استقبالیہ کی ایک تقریب منعقد کی گئی، اس موقع پر حضور نے حسب ذیل خطاب فرمایا:۔اس موقع جو سپاسنامہ پیش کیا گیا، اس کے متعلق حضور نے فرمایا:۔وو سپاسنامہ تو مناسب نہیں ہے کہ خواہ مخواہ بیٹھ کر میری تعریف شروع کر دیں، نعوذ باللہ من ذلک۔یہ فضول رسم ہے۔اگر ویسے سفر سے میری واپسی پر اللہ تعالیٰ کے شکر کے اظہار کے طور پر کچھ کہنا چاہتے ہیں تو پھر بے شک کہیں۔سپاسنامے پیش کرنے کی رسم کو توڑیں، اس بات کو ختم کریں۔یہ فضول چیز ہے، اس سے بچیں۔ہاں، اس موقع پر دعائیہ کلمات کہہ دیئے جائیں تو اچھی بات ہے۔لیکن لمبے چوڑے سپاسنامے پیش کرنے سے پھر آہستہ آہستہ آپ غلط راستوں پر چل پڑیں گے۔ایک وقت تک ہو گیا، اگر ہوا ہے۔بات حد کے اندر ر ہے تو ٹھیک رہتی ہے۔لیکن جتنا آپ دور نبوت سے دور جاتے ہیں، اتنا احتیاط زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ورنہ یہ چیزیں اگر شروع میں معصومیت میں بھی کی گئی ہوں تو پھر آگے جا کر ان سے بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔پھر خواہ مخواہ زمین آسمان کے قلابے ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔اس لئے میں ان چیزوں کو پسند نہیں کرتا۔اب آپ نے کچھ کہنا ہے تو وہ جو مبالغہ آمیزیاں ہیں، ان کو چھوڑ کر آپ بے شک کہیں۔اگر اس میں کوئی غلط بات ہوئی تو میں کہہ دوں گا کہ یہ غلط ہے۔تشہد وتعوذ اور تسمیہ کے بعد فرمایا:۔میں مجلس خدام الاحمدیہ کے تمام راکین کا مجلس عاملہ کا بھی اور مجالس عاملہ کا بھی شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس دعوت پر مجھے مدعو کیا اور اپنے اس خطاب میں جو ابھی استقبالیہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اس میں جملہ خدام کی قربانی کے جذبات کو نہایت عمدہ لفظوں میں پیش کیا گیا ہے۔یہ درست ہے کہ ہر احمدی کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت میں فدا ہونا چاہیے اور یقیناً اس کے دل کے جذبات وہی ہوں گے، جو پیش کئے گئے ہیں۔یعنی یہ کہ جان، مال، عزت، آبر و غرضیکہ زندگی کا ذرہ ذرہ 695