تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 687
اقتباس از خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جب یہ ساری باتیں ہو چکتی ہیں تو بسا اوقات یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ یہ معاشرہ کہاں ہے؟ کس خطہ عالم میں وہ موجود ہے، جس کا تم ذکر کر رہے ہو؟ تا کہ ہم بھی دیکھیں۔یہ وہ سوال ہے، جس کا جواب سب سے زیادہ مشکل ہے۔کیونکہ جہاں تک عالم اسلام کا تعلق ہے، آپ مشرق میں جائیں یا مشرق بعید میں، جہاں مسلمانوں کی کافی تعداد موجود ہے یا پھر مشرق وسطی میں آجائیے یا برصغیر پاک و ہند کے حالات پر نظر دوڑائیے، کوئی ملک ہم پیش نہیں کر سکتے ، جس کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ وہاں کی عورت اسلامی معاشرے کی علمبر دار ہے۔اور اگر تم عورتوں کا اسلامی معاشرہ دیکھنا چا ہو، مطالعہ کرنا چا ہو تو فلاں ملک میں چلے جاؤ۔اس لئے مجھے اس سوال کے جواب میں ہمیشہ وقت محسوس ہوتی ہے۔میں انہیں یہ تو کہتا ہوں کہ جہاں تک ہمارا اختیار ہے، ہم کوشش کرتے ہیں۔اور پھر انہیں ربوہ کی مثال دیتا ہوں اور ربوہ آنے کی دعوت بھی دیتا ہوں۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جب تک ایک پورے ملک کی تمام مستورات اسلامی معاشرہ پر قائم نہ ہو جائیں ، اس وقت تک جہاں تک دنیا کا تعلق ہے، ان کے سامنے کھلی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔اس کا دوسرا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم تمہارے ملک میں جہاں بسے ہوئے ہیں، وہاں کی عورتیں اسلام کے معاشرے کی علمبردار ہیں، جو احمدیت سے تعلق رکھتی ہیں۔لیکن اس پہلو سے بعض جگہ کمزوریاں ہیں، اس لئے یہ جواب ہر ملک میں نہیں دیا جاسکتا۔اس لئے لجنہ اماءاللہ کو بین الاقوامی حیثیت سے اس طرف کوشش کرنی چاہئے۔اس طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اسلامی معاشرے کا عملی نفاذ بہت ہی ضروری امر ہے اور ساری دنیا کی لحنات میں اس لحاظ سے یکسوئی اور ہم آہنگی پیدا ہونی چاہئے۔یہ تو درست نہیں ہے کہ لجنہ اماءاللہ ربوہ اور طرح سے نشو و نما پارہی ہو ، لجنہ اماء اللہ کراچی اور طرح سے نشو و نما پارہی ہو، امریکہ میں اسلام کا اور تصور، ہندوستان میں اور تصور سمجھا جارہا ہو۔اسلام تو کوئی علاقائی مذہب نہیں ہے۔اسلام تو ایک عالمی مذہب ہے۔اس لئے اسلام کا معاشرہ بھی لازما بین الاقوامی ہوگا۔اس پہلو سے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کو توجہ کرنی چاہئے کہ ساری دنیا کی لجنہ کا ایک مزاج پیدا کریں اور جہاں تک اسلامی اقدار کا تعلق ہے، ان کی بڑی گہری نگرانی کریں کہ تمام دنیا کی لجنات ایک مزاج پر نشو و نما پارہی ہوں۔چنانچہ اس سفر میں، میں نے فیصلہ کیا کہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کو یہ کہوں گا کہ آپ عالمی دورے شروع کروائیں اور ایسی خواتین کا انتخاب کریں، جو تجربہ کار ہوں اور نسبتا معمر ، درمیانی عمر کی ہوں، یعنی بچیاں نہ ہوں۔اور انہیں نہ صرف یہ کہ تجربہ ہو بلکہ ان کا اللہ سے تعلق بھی ہو۔جہاں تک انسان اندازے لگا 687