تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 683
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء یہ ضروری نہیں کہ ٹوپی کے اوپر ضرور کچھ نہ کچھ لکھا ہوا ہو۔یہ میرا مقصد نہیں۔میں کوئی حکم نہیں دے رہا۔لیکن ایک خیال ظاہر کر رہا ہوں کہ یہ تجربہ بھی کیا جا سکتا ہے۔اور نہیں تو آپ کا جو بیج تھا، جس پر کلمہ لکھا ہوتا تھا، اس کو ساتھ پہننے کا رواج دیں۔میں نے دیکھا ہے، پرانے زمانے میں جب اطفال اجتماع پر آیا کرتے تھے تو اسی بیج کو وہ اپنی ٹوپی پر بھی ٹانک دیا کرتے تھے یا بعض دفعہ اپنی قمیص یا کوٹ کے او پر پہنا کرتے تھے۔پس یہ جو رواج ہیں، یہ قوم کے اچھے اخلاق اور قومی روایات کی حفاظت کرتے ہیں۔اس لئے ان کو معمولی سمجھ کر بھلا نہیں دینا چاہئے۔ورنہ آج جو ننگے سر بچے بڑے ہو رہے ہیں ، ان کے متعلق اس بات کا زیادہ احتمال ہے کہ وہ مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر کئی قسم کی خرابیوں کا شکار ہو جائیں۔پھر اگر مغربی تہذیب کہے گی کہ سرمنڈوانا شروع کرو اور استرے پھر واؤ اور (SKIN HEAD) سکن ہیڈ بن کر نکلو تو یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے بڑے ہو کر سر مونڈھنے ہیں۔لیکن جن کو بچپن سے ٹوپی پہننے کی عادت ہوگی ، ٹوپی ان کی حفاظت کرے گی۔اور ایسے بچے مغربی تہذیب سے اول تو متاثر نہیں ہوں گے۔اگر ہوئے بھی تو بہت کم ہوں گے۔اس لئے یہ بہت اہم چیزیں ہیں، ان کی طرف آپ کو بہت توجہ کرنی چاہئے۔اب ہم دعا کر لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے احمدی بچوں کو تعظیم کردار عطا کرے۔اور بڑے ہو کر ساری دنیا کی تربیت کی توفیق عطا فرمائے۔(اس موقع پر بچوں نے زور زور سے آمین کہنی شروع کر دی تو حضور نے فرمایا) بچو! آہستہ دل میں آمین کہو۔خدا کوئی بہرایا گونگا تو نہیں ہے، نعوذ باللہ من ذالک یا اس کے کان خراب تو نہیں ہو گئے کہ جب تک آپ اونچی آواز نہیں کہیں گے ، اس کو سنائی نہیں دے گا۔بعض دفعہ اونچی آمین کہنے کے نتیجہ میں دل ساتھ حرکت کر ہی نہیں رہا ہوتا۔صرف زبان سے ہی آمین نکل رہی ہوتی ہے۔اس لئے آمین کا مطلب سمجھیں۔آمین کا مطلب ہے، اے میرے اللہ ! میری اس دعا کو قبول فرما۔تو اس آمین کہنے میں تو عاجزی ہونی چاہئے۔مگر آپ کی آمین کہنے سے تو لگتا ہے کہ جس طرح آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے قبول کر لیا ہے۔اس لئے آپ دل میں آمین کہیں۔یہ خدا کی آواز ہے، جو سب دنیا کی آوازوں سے اونچی ہے اور ساری دنیا میں سنائی دیتی ہے۔اگر وہ آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے آپ پر فضل نازل فرمائے تو پھر تو مزہ بھی آئے گا۔لیکن آپ اونچی آمین کہہ رہے ہوں اور اللہ میاں توجہ ہی نہ کرے کیونکہ دل سے آواز نہ اٹھ رہی ہو تو یہ اچھی بات نہیں ہے۔اس لئے جب میں دعا کا کہتا ہوں تو میرا مطلب یہ ہے کہ دل میں دعا کریں اور اگر آمین کہتا ہوں تو بالکل ہلکی آواز میں کہیں۔یعنی منت اور بجز اور انکساری کے ساتھ دعا کے رنگ میں آمین کہیں۔683