تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 682 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 682

خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم بچو! اب آخر پر میں آپ سے ایک چھوٹی سی بات یہ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، شاید میں نے گزشتہ سال بھی آپ سے یہ کہا تھا کہ مجالس میں ٹوپی پہنا کریں۔احمدی مجالس میں ٹوپی پہن کر بیٹھنا چاہئے۔لیکن اس وقت مجھے یہ نظر آرہا ہے کہ اکثر بچے ننگے سر اس لئے بیٹھے ہیں کہ وہ گھر سے ٹوپی لے کر نہیں چلے۔معلوم ہوتا ہے کہ ٹوپی پہنے کی عادت اتنی مٹ گئی ہے کہ انہوں نے ٹوپی کو ادراہ میں شامل ہی نہیں کیا۔اب یہاں پہنچ کر شریف بچے اپنے سر کے گرد چادر میں لپیٹ رہے ہیں، کوئی قمیص اونچی کر کے سرڈھانک رہا ہے، کسی نے چادر سر پر رکھ لی ہے، کسی نے رومال لپیٹنا شروع کیا ہے، کسی نے مظفر باندھنا شروع کیا ہے۔مگر بعضوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔وہ بیچارے کیا کریں؟ اب وہ قمیص اتار کر سر پر تو نہیں پہن سکتے۔گو تھوڑی اور ٹو بہت تو شرم اور حیادکھائی دیتی ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ٹوپی پہنے کا تصور مٹتا جا رہا ہے۔حالانکہ یہ بہت اہم چیز ہے اور بچوں کے کردار سنوارنے میں اس کا بڑا دخل ہے۔اس لئے بچے اس کو معمولی چیز نہ سمجھیں۔اگر سارے بچے ایک ہی قسم کی ٹوپیاں پہن کر یہاں بیٹھے ہوتے تو اندازہ کریں، یہ مجلس کتنی خوبصورت لگتی۔اس وقت میرے سامنے جو بچے بیٹھے ہوئے ہیں، وہ ٹوپیاں پہن کر آئے ہیں۔ان کو دیکھیں ، ماشاء اللہ کتنے اچھے لگ رہے ہیں۔ان کے اندر ذمہ داری کا احساس نظر آرہا ہے۔یہ بے ٹوپیوں والوں کی نسبت زیادہ پیارے لگ رہے ہیں اور زیادہ اچھے دکھائی دے رہے ہیں۔اس لئے میں ان بچوں سے، جو ٹوپی نہیں پہنتے ، یہ کہتا ہوں کہ وہ دنیا کی تہذیب کو کیوں اپناتے ہیں؟ وہ احمدی بچے ہیں، ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ احمدیت نے دنیا کو ایک نئی تہذیب دینی ہے۔اور اس تہذیب میں یہ بات داخل ہے کہ ہم اپنے سر ڈھانک کر رکھیں۔اس سے ذمہ داری کا بہت بڑا احساس پیدا ہوتا ہے۔پس اطفال الاحمدیہ کی مجالس میں آئندہ سے کوئی بچہ ننگے سر نظر نہیں آنا چاہئے۔مجلس خدام الاحمدیہ یا اطفال الاحمدیہ کے شعبے کو چاہئے کہ وہ سارا سال اطفال کو تحریک کرتے رہیں کہ وہ ٹوپی پہنیں۔اور اگر ممکن ہوتو ایک ٹوپی سستی سی لیکن خوبصورت ڈیزائن کی مجلس خدام الاحمد یہ تیار کر کے اس کو عام رواج دے۔اور وہ اطفال الاحمدیہ کی ٹوپی ہو، جس پر مثلا کلمہ طیبہ لا الہ الا الله محمد رسول الله لکھا ہوا ہو۔یہ ٹوپی ہر احمدی بچے کا نشان بن جائے گا۔بہت پیاری سی ٹوپی پر کلمہ طیبہ کی خوبصورت سی مہر بن جائے۔آج کل بچوں میں جو کپڑے رائج کئے جاتے ہیں، ان پر عجیب اوٹ پٹانگ فقرے لکھے ہوئے ہوتے ہیں اور ایسی زبانوں میں لکھے ہوئے ہوتے ہیں، جن کا بچوں کو کچھ پتہ ہی نہیں لگتا۔بچے آنکھیں بند کر کے ان فیشنوں کے پیچھے چلتے رہتے ہیں۔ہمیں اپنے بچوں کو کوئی بہتر فیشن دینا پڑے گا۔تا کہ وہ بھی کوئی چیز دنیا کے سامنے پیش کریں ، ان میں سے ایک یہ ٹوپی ہے۔682