تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 681
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء جھوٹ ایک ایسی گندی عادت ہے کہ وہ انسان کے اندر آہستہ آہستہ راسخ ہو جاتی ہے۔اور پھر جھوٹے کو بعض دفعہ پتہ بھی نہیں لگتا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔وہ جھوٹ بولتا چلا جاتا ہے، کہانیاں بنائے جاتا ہے۔یہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔چنانچہ ہمارے جھنگ کے ماحول میں ایسے لوگ بڑی کثرت سے ملتے ہیں، جن کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے۔اس ضلع میں بہت زیادہ کثرت سے جھوٹ بولا جاتا ہے۔جو لوگ جھوٹی باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور نظر آرہا ہوتا ہے کہ جھوٹ بول رہے ہیں لیکن ان کو پتہ ہی نہیں لگ رہا ہوتا۔وہ بیٹھے بیٹھے جھوٹی کہانیاں بنائے جاتے ہیں۔پس اگر خدانخواستہ احمدی بچوں نے بھی جھوٹ بولنا شروع کر دیا تو پھر اس قوم کو سنبھالے گا کون؟ پھر تو یہ قوم ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔کیونکہ یہ سچائی ہی ہے، جو انسانی زندگی کے کام آتی ہے۔سچائی سے ہی دنیا بنتی ہے اور سچائی سے ہی دین بنتا ہے۔سچائی سے ہی مادی ترقیات نصیب ہوتی ہیں اور سچائی ہی کے ساتھ روحانی ترقیات نصیب ہوتی ہیں۔جھوٹ کے تو نہ یہاں قدم سکتے ہیں، نہ وہاں قدم سکتے ہیں۔اس لئے اے بچو! آپ کی دنیاوی ترقی کا راز بھی اس بات میں مضمر ہے کہ آپ بچے ہو جائیں اور آپ کی دینی ترقی کا راز بھی اس بات میں ہے کہ آپ کچے احمدی بن جائیں اور سچ کو مضبوطی کے ساتھ اختیار کریں اور جھوٹی بات کو سنا بھی برداشت نہ کریں۔اگر کوئی بچہ مذاق میں بھی جھوٹ بولتا ہے، اس کے جھوٹ پر بھی آپ بالکل نہ ہنسیں۔بلکہ حیرت سے دیکھیں اور اسے کہیں : یہ تم کیا بات کر رہے ہو؟ یہ تو مذاق کا قصہ نہیں ہے۔مذاق کرنا ہے تو بچے مذاق کرو۔ایک دوسرے کو لطیفے سناؤ اور اس قسم کی باتیں کرو، جن سے حاضر جوابی کا مظاہرہ ہوتا ہو۔جھوٹ بولنے سے مذاق کا کیا تعلق۔یہ تو گندگی ہے۔جہاں بھی جھوٹ دیکھیں ، وہاں اس کو دبائیں اور اس کی حوصلہ شکنی کریں۔بلکہ اگر آپ کے ماں باپ میں یہ عادت ہے تو ان سے بھی ادب سے کہیں کہ ابا امی ! آپ نے تو ہمیں سچائی سکھانی تھی۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں یا کیا کہہ رہے ہیں؟ احمدی والدین ہو کر جھوٹ بول رہے ہیں۔یہ بات آپ کو بھی نہیں۔پس اگر سارے بچے سچ بولنے کی عادت ڈالیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ ان کو اللہ کی طرف سے کتنی نعمتیں اور کتنے فضل نصیب ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان ہی لوگوں کو ملتا ہے، جو بچے ہوں۔اگر آپ بچے بن جائیں گے تو اس بچپن کی عمر میں بھی آپ کو خدامل جائے گا۔اگر اس عمر میں جھوٹ بولنے کی عادت پڑ گئی تو بڑے ہو کر نہ خود خدا کے فضل حاصل کر سکو گے، نہ دنیا کو خدا کی طرف بلا سکو گے۔اس لئے میں سب بچوں کو بہت تاکید کرتا ہوں کہ ہمیشہ سچ بولیں اور سچائی کو بڑی مضبوطی کے ساتھ پکڑیں۔681