تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 672 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 672

اقتباس از خطاب فرمودہ 21اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کاموں میں آسانی پیدا ہو جائے۔قرآن کریم کی خدمت میں اس بچی کا علم کام آئے۔تو اس بچی کو اللہ تعالی نے یہ توفیق دی کہ اپنے سکول میں نجی زبان میں اول آئی۔حالانکہ باقی سب فجین بچے تھے۔تو اس سے مجھے امید اور بھی بڑھ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے احمدی دماغ کو چمک عطا فرمائی ہوئی ہے، غیر معمولی ذہانت بخشی ہوئی ہے۔احمدی تھوڑی سے کوشش کریں گے تو اللہ کے فضل کے ساتھ بڑی جلدی اس زبان میں مہارت حاصل کرلیں گے۔چنانچہ اس کا اب مکمل انتظام کیا جا چکا ہے۔اور وہاں جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ نہ صرف ہم اپنے بچوں کو کاویتی سکولوں میں داخل کرائیں گے بلکہ بڑے بھی سیکھیں گے اور اس کے علاوہ تعلقات کے دائرے بھی بڑھا ئیں گے۔بلکہ ان سب امور میں براہ راست آپ کور پورٹ کریں گے۔کیونکہ آخر میں، میں نے ان کو یہ تاکید کی تھی کہ ان باتوں میں صرف مجھے دفتری رپورٹ بھیج کر آپ تسلی نہ پایا کریں، مجھے آپ کی براہ راست رپورٹ چاہیے کہ آپ نے کتنے بچوں کو با قاعدہ نجی سکولوں میں داخل کرا دیا ہے؟ کتنی جگہ کلاسیں شروع ہو گئی ہیں؟ کتنے بڑے باقاعدہ زبان سیکھ رہے ہیں؟ اس کے علاوہ وہاں ایک بات میں نے محسوس کی، جو بہت خوشکن تھی کہ تعداد کے لحاظ سے تو جماعت بہت تھوڑی ہے لیکن اثر کے لحاظ سے غیر معمولی اثر رکھتی ہے۔یہاں تک کہ ہندو اور سکھ لیڈر ، جو ہماری مجالس میں آئے ، انہوں نے بڑے کھلے لفظوں میں جماعت کی تعریف کی اور کہا کہ یہ عظیم الشان لوگ ہیں ، یہ اس زمانے کے قابل احترام وجود ہیں، جن کی وجہ سے سو سائٹی زندہ ہے۔ان کا ماحول پر نیک اثر ہے۔ایسے لوگوں سے جو دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں، اس قسم کی کھلے لفظوں میں تعریف کا سننا یہ ایک حوصلہ بڑھانے والی بات تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مجھے بہت ہی اطمینان نصیب ہوا کہ جماعت کے اندر پھیلنے کا اور اثر قائم کرنے کا مادہ موجود ہے۔پھر وہاں بعض ایسے اساتذہ ہیں، جن کے ہاتھوں سے کئی نسلیں تعلیم حاصل کرتی ہوئی نکلی ہیں۔احمدی اساتذہ کی نیکی اور بچوں سے شفقت اور پیار اور سچی ہمدردی کا بڑا گہرا اثر پایا جاتا ہے، وہاں کی سوسائٹی میں۔چاروں طرف ان کے شاگرد پھیلے پڑے ہیں اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔وہ اپنے اساتذہ کا بہت احترام کرتے ہیں۔پس نبی کی جماعت میں اللہ کے فضل کے ساتھ کام کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔اور وہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ کام کریں گے۔میں نے ان کو دعاؤں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور بتایا ہے کہ آپ کی محنت کو پھل نہیں لگے گا، جب تک آپ دعا ئیں نہیں کریں گے۔میں نے ان سے یہ وعدہ کیا ہے کہ میں بھی انشاء اللہ تعالی دعاؤں میں یاد رکھوں گا۔چنانچہ مجھے جہاں تک توفیق ملتی ہے، میں ان کو با قاعدہ 672