تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 655
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1983ء مشرق و مغرب ہر طرف رضائے باری تعالیٰ کے مواقع میسر ہیں خطبہ جمعہ فرمودہ 21اکتوبر 1983ء تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل آیت قرآنی تلاوت فرمائی:۔وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ اِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (البقرة: 116) اور پھر فرمایا:۔" قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ، جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے، مختلف رنگوں میں مومنوں کو خوشخبریاں دے رہی ہے۔اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ مشرق و مغرب اللہ ہی کے لئے ہیں ، پس خواہ تم مشرق کی طرف منہ کرو یا مغرب کی طرف تم ہر جگہ وہ اللہ کو حاصل کر سکتے ہو۔اللہ وسعت دینے والا اور خوب جاننے والا ہے۔وجہ اللہ کے معنی کئی طرح سے کئے جاسکتے ہیں۔اس موقع پر میں جو معانی اخذ کر رہا ہوں، ان سے مراد رضائے باری تعالیٰ ہے۔پس ایک معنی اس آیت کریمہ کا یہ بنے گا کہ مشرق اور مغرب دونوں اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اسی کی ملکیت ہیں، پس وہ مومن جو رضائے باری تعالیٰ کے حصول کی خاطر نکلتے ہیں، خواہ وہ مشرق کی طرف منہ کریں یا مغرب کی طرف انہیں دونوں جگہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے مواقع میسر آئیں گے۔اِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ اللہ تعالیٰ ان مواقع کو وسعت دیتا چلا جائے گا اور ان لوگوں پر خدمت دین کی نئی نئی راہیں کھولتا چلا جائے گا، جو اس نیت سے سفر اختیار کرتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے مواقع تلاش کریں۔اسی معنی کا دوسرا پہلو یہ بنے گا کہ وہ لوگ جو رضائے باری تعالیٰ کی خاطر سفر اختیار کرتے ہیں، خواہ وہ مشرق کی طرف منہ کریں یا مغرب کی طرف، وہ دیکھیں گے کہ انہیں مشرق میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل رہی اور مغرب میں بھی۔رضائے باری تعالیٰ کوئی محدود چیز نہیں۔اللہ تعالیٰ اس رضا کو اپنے بندوں کے لئے وسعت دیتا چلا جاتا ہے۔پس وہ اللہ کی رضا کو نئے نئے رنگ میں ظاہر ہوتا دیکھیں گے اور خدا 655