تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 617
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطاب فرمودہ 05اکتوبر 1983ء اسلام کے مفہوم میں صرف بندے اور بندے کے درمیان امن کا تصور داخل نہیں بلکہ بندے اور خدا کے درمیان بھی امن کا مفہوم شامل ہے۔چنانچہ اس پہلو سے اسلم وہ کہلائے گا، جس سے خدا کی مخلوق اور اس کا قانون امن میں رہے۔اور جو خدا تعالیٰ سے ایسے تعلقات قائم کرے کہ اس کی سزا اور عقوبت سے امن میں آجائے۔الغرض لفظ مسلم کے اندر امن و سلامتی کا ایسا وسیع مفہوم ہے، جو اس دنیا پر بھی حاوی ہے اور اگلے جہان پر بھی۔انسانوں کے تعلقات پر بھی پھیلا ہوا ہے اور اللہ اور بندہ کے تعلق پر بھی۔اور ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ نظام کائنات میں کوئی خلل پیدا نہ کرے اور اللہ کا مطیع بندہ بن کر رہے۔وہ اپنوں کے لئے بھی سراپا امن ہو جائے اور غیروں کے لئے بھی سراپا امن ہو۔اسلام کی تعلیم اس لائق ہے کہ آج قومیں اس سے استفادہ کریں اور ہولناک تباہی سے بیچ جائیں۔یہ اس پہلو سے منفرد ہے کیونکہ کسی دوسرے مذہب میں جب بین الاقوامی تصور ہی موجود نہیں تو وہ بین الاقوامی تعلیم کیسے پیش کر سکتا ہے؟ لیکن یہ ایک الگ اور مستقل مضمون ہے، جس کی تفصیل میں اس وقت میں نہیں جاسکتا۔گزشتہ سال زیورک (سوئٹزرلینڈ) میں اپنے ایک لیکچر میں، میں نے اسلام کی بین الاقوامی تعلیم امن اور عدل و انصاف کے بارہ میں نسبتا زیادہ تفصیل سے بیان کیا تھا۔یہ مضمون THE REVIEW OF RELIGIONS RABWAH اور DER ISLAM ZURCH میں شائع ہو چکا ہے۔لیکن اس میں بھی وقت کی مناسبت سے اس حد تک اختصار سے کام لینا پڑا کہ اسے سیر حاصل نہیں کہا جاسکتا۔آخر پر میں اسلام کے ایک اور عظیم الشان امتیاز کا ذکر کر کے اپنے خطاب کو ختم کرتا ہوں۔اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور خدا اور بندے کے تعلقات کو آج بھی اسی طرح قائم کرنے کا دعویدار ہے، جیسے از منہ سابقہ میں خدا اور بندہ کے تعلقات کا ذکر ملتا ہے۔اسلام وحی اور الہام کو ایک قصہ پارینہ کے طور پر پیش نہیں کرتا بلکہ ہر زمانہ کے انسان کو خوش خبری دیتا ہے کہ جس راستہ پر نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسی نے اپنے رب کی لقاء حاصل کی اور جس راہ پر گامزن ہو کر خاتم النتین محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خدا سب پہلوں سے بڑھ کر جلوہ گر ہوا، آج بھی وہ وصل کی راہیں کھلی ہیں۔اور صلائے عام ہے، ہر اس شخص کے لئے جو وصل الہی کا متمنی ہے۔چنانچہ فرمایا:۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الْهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًان (الكيف:111) 617