تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 605 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 605

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد شم خطاب فرمودہ 105اکتوبر 1983ء اصولی تعلیم کا بیان اور ایسی تفصیلات سے گریز، جو وقت اور حالات کے بدلنے کے ساتھ تبدیلی کی محتاج ہوں۔2۔انسان کے چینی، تمدنی اور سیاسی ارتقاء پر نظر ڈالتے ہوئے ایسی تعلیم دینا، جو ہر امکانی صورت حال کو پیش نظر رکھے اور اس ٹھوس مشاہدہ پرمبنی ہو کہ کبھی کسی زمانہ میں بھی مختلف قومیں ترقی کے لحاظ سے ایک مقام پر کھڑی نہیں ہوتیں بلکہ ہر زمانہ میں متعدد ایسی قومیں ملتی ہیں، جو اپنی نشو ونما اور ترقی کے اعتبار سے بعض دوسرے زمانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔مثلاً آج بھی یہ ممکن ہے کہ اس دنیا میں پتھر کے زمانے کے انسان بھی موجود ہوں یا ہزار برس پہلے کے زمانہ سے تعلق رکھنے والے گروہ یا قو میں موجود ہوں، جو شعور اور تمدن اور سیاست اور ارتقاء کے اعتبار سے بظاہر اس زمانہ میں ہوتے ہوئے بھی دراصل گزشتہ زمانوں کے لوگ ہوں۔مثلاً آسٹریلیا کے قدیم باشندے یا کانگو کے پگمیز ہیں، جن پر اس زمانے کے جدید سیاسی نظریات کو ٹھونسنا محض حماقت ہوگی۔ایسی تعلیم ، جو انسانی فطرت کے سب امکانی تقاضوں کو ملحوظ رکھے اور اس وقت تک غیر مبدل رہے، جب تک انسانی فطرت میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔مطبوعه روزنامه الفضل 30 جنوری 1984ء) اسلام کے اسلوب تعلیم کی یہ چند شکلیں بطور مثال پیش کی گئی ہیں۔اب میں ان پر کسی قدر تفصیل سے روشنی ڈالتا ہوں تا کہ میرا مافی الضمیر بغیر کسی ابہام کے سمجھ آسکے۔اسلام سود کی ہر حالت میں مذمت کرتا ہے اور دنیا بھر سے سودی نظام کی مکمل بیخ کنی کی بشدت تلقین کرتا ہے۔اور اقتصادی پیسے کو چلانے کے لئے سود کی بجائے زکوٰۃ کو قوت محرکہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔وقت اور موقع کی مناسبت سے اس تفصیلی بحث کی تو یہاں گنجائش نہیں کہ سودی نظام کے مقابل پر زکوۃ کے نظام کو کیا کیا فوقیت حاصل ہے؟ لیکن صرف اس پہلو سے میں یہاں کچھ گفتگو کروں گا کہ اس تعلیم کو زمانہ کی دستبرد سے محفوظ رکھنے کے لئے قرآن کریم کیا طریق اختیار کرتا ہے؟ زکواۃ سرمایہ پر ایک ٹیکس کا نظام ہے، جو امراء سے وصول کیا جاتا ہے اور ریاست کی ضروریات کو اس ٹیکس سے پورا کرنے کے علاوہ اس کا بڑا مقصد یہ ہے کہ غرباء کی ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔غرضیکہ یہ کہ ایک ایسا نظام ہے، جو حکومت کی ضرورتوں کے علاوہ سوشل ویلفیئر کے تقاضے پورے کرنے کا ضامن ہے۔اگر قرآن کریم انسان کے ہاتھ کا بنایا ہوا کلام ہوتا تو ضرور اس زمانہ کے عرب کے حالات مد نظر رکھ کر 605