تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 592 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 592

خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اب میں ایک اور اہم امر کی طرف آپ کی توجہ مرکوز کرانا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ کہ تمام نو آبادیات کے ساتھ نو آبادیات میں بسنے والے قدیم باشندوں کے خلاف شدید مظالم کی داستا نہیں بھی وابستہ ہوا کرتی ہیں۔چنانچہ آسٹریلیا کی جغرافیائی تسخیر کے ساتھ بھی انتہائی ظلم کی ایسی ہی داستانیں وابستہ ہیں۔آسٹریلیا میں آباد ہونے والی نو آباد قوموں نے پرانی قوموں سے یہاں تک بہیمانہ سلوک کیا کہ ان کی شیکاری ٹولیاں ہتھیاروں سے مسلح ہو کر جنگلوں کی طرف پرانے باشندوں کے شکار کے لئے نکل کھڑی ہوتی تھیں اور جنگلی جانوروں کی طرح ان کو گولیوں کا نشانہ بنا کر یہ مقابلے ہوتے تھے کہ کسی شکاری نے کتنے زیادہ پرانے باشندوں کا شکار کیا ہے؟ یہ ظلم کسی لڑا کا قوم کے خلاف روا نہیں رکھا گیا بلکہ مؤرخین ہمیں بتاتے ہیں کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندے تو جنگجو اور خونخوار نہیں تھے بلکہ نہایت امن پسند صلح کل لوگ تھے۔روحانی تسخیر کے ساتھ بھی اسی قسم کے ظالمانہ مظالم کی داستانیں وابستہ ہوتی ہیں۔لیکن اس بنیادی فرق کے ساتھ کہ بچی مذہبی قو میں دوسروں کا شکار نہیں کرتیں بلکہ خودان کا شکار بنائی جاتی ہیں اور پر اپنے باشندے شکاری بن کر مذہبی قوموں کا شکار کرتے ہیں۔دیکھو ! عیسائیت نے جب سلطنت روما کو مذہبی تسخیر کے لئے دریافت کیا تو یہ نو آباد کار عیسائی ہی تو تھے، جنہیں اہل روم کے ہاتھوں وحشی درندوں سے پھڑوایا گیا اور شیروں اور بھیڑوں کے سامنے پھینکا گیا۔احمدیت کی نو آبادیاتی تاریخ میں بھی غریب اور بے کس احمدیوں کے خلاف ایسے ہی دردناک مظالم کے واقعات بکثرت ملتے ہیں، جو ملک ملک دنیا بھر میں پھیلے پڑے ہیں۔مثلاً آج سے تقریباً 45 سال پہلے کا یہ واقعہ ہے کہ سنگا پور میں ہمارے ایک مبلغ غلام حسین صاحب ایاز کو تبلیغ کے جرم میں مشتعل ہجوم نے مار مار کر نیم جان کر دیا اور زخموں سے چور بدن کو رات کے وقت ایک سنسان سڑک پر پھینک دیا۔ان کو اچانک ہوش اس طرح آیا کہ آوارہ کتے غراتے ہوئے ان کے زخموں کو بھنبھوڑ رہے تھے۔پس اے اہل آسٹریلیا! اگر ہم وہی ہیں، جو اس عزم اور اس صبر اور اس استقلال اور اس شان فقیرانہ کے ساتھ نئی روحانی بستیاں آباد کیا کرتے ہیں اور دوسروں کے خون سے نہیں بلکہ خود اپنے ہی خون سے بے رنگ زمینوں کو رنگ بخشتے ہیں اور بے آب و گیاہ صحراؤں کو چمن زار بنا دیتے ہیں۔اگر ہم وہی ہیں جو بالآخر دلوں پر فتح پاتے ہیں اور روحوں کی تسخیر کرتے ہوئے خیالات اور نظریات کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیتے ہیں تو یا درکھنا کہ آج کا دن جبکہ ہم اپنی پہلی مسجد اور اپنے پہلے مشن ہاؤس کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں، براعظم آسٹریلیا کی تاریخ کا عظیم ترین دن ہے۔یہ وہ دن ہے، جس کی آب و تاب گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ بڑھتی چلی جائے گی۔اور وہ دن جب کیپٹن جیمز لک نے پہلی مرتبہ آسٹریلیا کی سرزمین پر 592