تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 591 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 591

تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1983ء مولانا کو بھی جب بھجوایا گیا تو سال پر سال گزرتے گئے لیکن جماعت کو یہ توفیق نہ مل سکی کہ انہیں ان کے بیوی بچوں سے ملنے کے لئے واپس بلائے۔ان کے بچے باپ کی محبت سے محروم یتیموں کی طرح پل کر بڑے ہونے لگے۔ایک دن ان کے سب سے چھوٹے بیٹے نے جواب سکول میں تعلیم حاصل کر رہا تھا، اپنی ماں سے پوچھا کہ اماں اسکول میں سب بچے اپنے ابا کی باتیں کرتے ہیں۔اور جن کے ابا با ہر ہیں، وہ بھی بالآخر واپس آ ہی جاتے ہیں۔اور اچھی اچھی چیزیں اپنے بچوں کے لئے لاتے ہیں۔پھر یہ میرے ابا کہاں چلے گئے کہ واپس آنے کا نام ہی نہیں لیتے ؟ ماں یہ سن کر آبدیدہ ہوگئی اور جس سمت میں اس نے سمجھا کہ انڈونیشیا واقع ہے، اس سمت میں انگلی اٹھا کر یہ کہا کہ بیٹا تمہارے ابا اس طرف خدا اور اس کے رسول کا پیغام پہنچانے گئے ہیں اور اسی وقت واپس آئیں گے، جب خدا کو منظور ہو گا۔اس عورت کے جواب میں در دتو تھا مگر شکوہ نہیں تھا۔احساس بے اختیاری تو تھا لیکن احتجاج نہیں تھا۔کیونکہ وہ خود بھی قربانی کے جذبہ سے سرشار تھی۔مولوی صاحب کو انڈونیشیا گئے ہوئے دس سال گذر چکے تھے۔جب آپ کو پہلی مرتبہ انڈونیشیا سے کچھ عرصہ کے لئے بلوایا گیا۔لیکن پھر جلد ہی انڈونیشیا بھجوادیا گیا۔انڈونیشیا میں اپنے اہل و عیال سے الگ رہ کر تبلیغ میں جو وقت انہوں نے صرف کیا، اس کا عرصہ 26 سال بنتا ہے۔بالآخر جماعت نے یہ فیصلہ کیا کہ اب ان کو مستقلاً واپس بلوالیا جائے۔تب ان کی بیوی جواب بوڑھی ہو چکی تھیں، اپنے امام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بڑے درد سے یہ عرض کیا کہ دیکھیں ، جب میں جوان تھی تو اللہ کی خاطر صبر کیا اور اپنے خاوند کی جدائی پر اف تک نہ کی ، اپنے بچوں کو کسمپرسی کی حالت میں پالا پوسا اور جوان کیا۔اب جبکہ میں بوڑھی اور بچے جوان ہو چکے ہیں، اب ان کو واپس بلانے سے کیا فائدہ۔اب تو میری یہ تمنا پوری کر دیجئے کہ میرا خاوند مجھ سے دور تبلیغ اسلام کی مہم ہی میں دیار غیر میں مرجائے یا مارا جائے اور میں یہ فخر سے کہ سکوں کہ میں نے اپنی تمام شادی شدہ زندگی دین اسلام کی خاطر قربان کر دی۔ان دونوں مثالوں کے انطباق میں یہ ایک عجیب تو ارد ہے کہ اگر شمالی پنجاب میں کھڑے ہو کر کوئی انڈونیشیا کی عمومی سمت کی طرف رخ کرے تو اسی سمت میں آگے باٹنی بے (Botany Bay) بھی واقع ہے۔ان دونوں واقعات میں مذکور خواتین کا رخ باٹنی بے کی ہی جانب تھا۔لیکن اس ظاہری مماثلت کے باوجودان دونوں واقعات میں بعد المشرقین ہے۔ایک باٹنی ہے جبر اور بے اختیاری کی ایک درد ناک داستان کی مظہر ہے اور ایک باٹنی بے عظیم مقصد کے لئے باشعور اور با اختیار طوعی قربانی کی ایک دل گداز مگر ایمان افروز داستان۔591