تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 579 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 579

تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1983ء ان کا کہیں نظر نہیں آتا۔لیکن مصر کی ان عالیشان اور پر شکوہ عمارتوں کے بالکل برعکس اس دنیا میں ایک نہایت معمولی اور بظاہر بے ڈھنگے ساخت کے پتھروں کی ایک ایسی عمارت بھی بنائی گئی تھی، جس کی کہانی دنیوی قوموں کی تعمیر کردہ عمارتوں کی کہانی سے بالکل مختلف اور جدا ہے۔میری مراد چھ ہزار برس سے زائد عرصہ قبل تعمیر کئے جانے والے اس قدیم گھر سے ہے، جو اس دنیا میں پہلی مرتبہ خالصہ خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کے لئے بنایا گیا۔چنانچہ قرآن کریم اس عظیم اور منفرد واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبرَكًا وَهُدًى لِّلْعَلَمِينَ فِيهِ أَيتُ بَيِّنتُ مَّقَامُ إِبْرَهِيْمَةٌ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ مِنَّا ترجمہ: یعنی وہ پہلا گھر جو زمین پر تمام بنی نوع انسان کے لئے خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کی خاطر بنایا گیا، وہ مکہ میں ہے۔وہ گھر مبارک ہے اور تمام انسانوں کی ہدایت کا موجب ہے۔اور اس کے ساتھ کھلے کھلے نشان وابستہ ہیں۔اور وہ ابراہیم کا مقام بھی ہے۔اور جو کوئی اس میں داخل ہوگا، وہ یقیناً امن میں آجائے گا۔اس گھر کا آغاز عظیم دنیوی قوموں کی یاد گار تعمیرات کے آغاز سے مختلف تھا۔کوئی شاہی خزانے اس کی تعمیر میں بے دریغ خرچ نہیں ہوئے۔نہ کسی آرکیٹیکٹ نے اپنے ذہن رسا کے زرخیز تخیل میں اسے ڈیزائن کیا اور نہ کسی ماہر تعمیر نے اس کے عمارتی کام کی نگرانی کی کسی غلام قوم سے اس کی تعمیر میں بریگار نہیں لی گئی۔خدا کے اس پہلے گھر کا آغاز کمال سادگی اور عاجزی کا آئینہ دار تھا۔تواریخ عالم میں اس عظیم واقعہ کا اشارہ بھی تو ذکر نہیں ملتا۔صرف قرآن ہی وہ کتاب ہے، جس نے اس عمارت کے آغاز کا اجمالاً ذکر کیا ہے۔یہ گھر بھی شکستہ در بخت کی دست برد سے باہر نہ رہا۔یہ بھی بالآخر منہدم ہوا۔لیکن خدا کی تقدیر نے اسے معدوم نہ ہونے دیا۔چنانچہ ایک عظیم الشان نبی یعنی ابراہیم کے سپر د خدا تعالیٰ نے یہ کام کیا کہ وہ خدا کے اس گھر کو انہی قدیمی بنیادوں پر از سر نو تعمیر کریں۔قرآن مجید اس خدائی تقدیر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔وَاذْ يَرْفَعُ اِبْراهِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاسْمَعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔(البقرة: 128) ترجمہ: اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ابراہیم اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہا تھا اور (اس کے ساتھ ) اسماعیل بھی۔(اور وہ دونوں کہتے جاتے تھے ) اے ہمارے رب! ہماری طرف سے (اس خدمت) کو قبول فرما۔تو ہی ( ہے جو ) بہت سننے والا (اور ) جاننے والا ہے۔579