تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 578 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 578

خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک تعمیر ہونے والے اس گھر کی بنیاد میں رکھی جارہی ہے۔لیکن یہ اینٹ آخری نہیں رہے گی اور نہ خدائے واحد کا یہ گھر آخری گھر ہوگا۔بلکہ یہ تو خانہ ہائے خدا کے نہ ختم ہونے والے سلسلہ کا ایک نہایت عاجزانہ آغاز ہے۔بظاہر یہ ایک عام سی بنیاد ہے، جو میں رکھ رہا ہوں اور یہ مٹی میں دب کر نظروں سے غائب ہو جائے گی۔لیکن ان بنیادوں پر ایک ایسی عمارت بلند ہوگی، جو زمین پر ہوتے ہوئے بھی اپنی ذات میں ایک آسمانی عمارت ہوگی۔اور جو عرش کے خدا تک رسائی پائے گی۔دن میں پانچ وقت اس کے میناروں سے اللہ کی وحدت اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اعلان بلند ہوں گے۔اس مسجد کے مینارے اس مادی دور میں بسنے والے مردوں اور عورتوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلائیں گے کہ اصل اور حقیقی رفعتیں مادی ترقی سے نہیں بلکہ روحانی ترقی سے حاصل ہوتی ہیں۔اب جبکہ ہم یہاں ایک عمارت کی تعمیر کے لئے جمع ہوئے ہیں، ہمیں مادی چیزوں میں شکست و ریخت اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔جو نہی تعمیر مکمل ہوتی ہے، اسی لمحہ سے شکست و ریخت کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔کوئی نہیں، جو وقت اور زمانہ کے اس عمل کو روک سکے۔اور کوئی نہیں ، جو اس عمل کے منتہائے مقصود کو نیچا دکھا سکے۔قرآن مجید زمانہ کے اس عمل کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔كُلٌّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ ® (الرحمن : 27,28) ترجمہ: اس (یعنی زمین) پر جو کوئی بھی ہے، آخر ہلاک ہونے والا ہے اور صرف وہی بچتا ہے، جس کی طرف تیرے جلال اور عزت والے خدا کی توجہ ہو۔لیکن فنا کے اس ظاہری عمل سے کہیں بڑھ کر پر ہیبت اور پر جلال وہ باطنی عمل ہے، جو ایک زمانہ اور ایک دور میں ایک کار فرما نظریہ حیات اور اس کی روح کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیتا ہے۔ازمنہ گزشتہ کی عظیم تہذیبوں کا اگر کچھ سراغ ملتا ہے تو مادی عمارتوں کے بچے کچے کھنڈرات سے ہی ملتا ہے۔ان کے آدرش اور ان کے نظریات بے نشاں ہوئے بغیر نہیں رہے۔فراعنہ مصر کے تعمیر کردہ اہرام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ان میں سے بعض اہرام ریت کے نیچے دفن ہو گئے۔کچھ نے کھنڈرات کی شکل اختیار کر لی۔صرف چند ایک ہی ہیں، جو آج بھی سر بلند اور ایستادہ نظر آتے ہیں۔لیکن کیا انہیں تعمیر کرنے والوں کے فلسفہ حیات اور سطح نظر کا درجہ رکھنے والے نظریات کے بھی کہیں کوئی آثار ملتے ہیں؟ کوئی ایک ذی روح بھی آج ایسا ہے، جوان کے نظریات پر عمل پیرا ہو؟ ایک بھی نہیں اوہ سب فنا کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔کوئی خفیف ترین نشان بھی تو پرعمل پیرا 578