تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 550 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 550

خطاب فرمودہ 21 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک وقت بچہ تھا۔مگر مجھے یاد ہے کہ چاروں طرف سے بڑے بڑے جتھے قادیان کو گھیرنے کے لئے آگئے تھے۔اور ہمارے گھروں کے قریب ہی لاؤڈ سپیکروں پر دن رات گالیاں دی جاتی تھیں اور ان کے بڑے بڑے رہنما یہ اعلان کرتے تھے کہ ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔اور ایک گھر بھی یہاں باقی نہیں رہے گا، جس میں کوئی احمدی سانس لینے والا نظر آجائے۔یہاں تک دعوے کئے گئے کہ احمدیت کا نشان مٹا دیا جائے گا۔احمد بیت تاریخ کا ایک حصہ بن جائے گی۔لوگ قادیان میں آکر پوچھیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کون تھا ؟ تو قادیان کے باشندے بتا نہ سکیں گے کہ وہ کون تھا ؟ ادھر یہ اعلان اور دعوے ہو رہے تھے، ادھر پنجاب کی برٹش گورنمنٹ جماعت کے خلاف سخت ACTION (ایکشن لینے پر تیار بیٹھی ہوئی تھی۔اور حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو بار بار نوٹس مل رہے تھے کہ آپ نے جواب میں ہر گز کوئی کارروائی نہیں کرنی۔یعنی ایک طرف تو دشمن کو کھلی چھٹی تھی ، دوسری طرف اپنا دفاع کرنے والوں کو پوری طرح قید و بند میں رکھا جارہا تھا۔یہ ویسی ہی بات ہے، جیسے ایک شاعر نے کہا ہے کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد کہ بعض بستیوں کے قانون کچھ ایسے الٹ جاتے ہیں کہ وہاں کتوں کو تو آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ اینٹ اور پتھر ، جن سے دفاع کیا جاسکتا ہے، جن سے اپنا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، ان کو زنجیروں سے باندھ دیا جاتا ہے۔اس وقت احمدیت کی بھی یہی کیفیت تھی۔احمدی ہاتھوں کو زنجیروں میں جکڑا جارہا تھا۔اور ہاتھ کاٹنے والوں کو کھلی چھٹی دی جارہی تھی۔چنانچہ اس پر آشوب زمانہ میں حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر ایک دن جمعہ کے خطبہ میں یہ اعلان فرمایا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے ، مگر لاز مایہ الہام پورا ہو گا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔کسی ماں نے وہ لیڈر پیدا نہیں کیا، کسی قوم نے وہ جوان پیدا نہیں کئے ، جو احمدیت کی ترقی کی راہ میں روک پیدا کر سکیں۔آپ نے فرمایا: ” احرار قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن میں ان کے پاؤں تلے سے زمین نکلتی دیکھ رہا ہوں۔اس قدر جوش اور جلال سے آپ نے یہ فرمایا کہ ہر سننے والے احمدی کے دل کی گہرائی تک یہ آواز اتر گئی اور اس کی زندگی اور ایمان کا حصہ بن گئی۔چنانچہ چنددنوں کے اندر اندر ہم نے یہ دیکھا کہ سارے پنجاب سے ان کی صف لپیٹ دی گئی۔جوان کے دوست تھے، وہ دشمن بن گئے۔جو ان کی مدح میں گیت گایا کرتے تھے ، وہ ان کی ہجو لکھنے لگ 550